سینیٹ کمیٹی کا ایف بی آر اور سی ڈی اے کی کارکردگی پر اظہار برہمی
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
سینیٹر وقارمہدی کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط و استحقاقات کے اجلاس میں سینیٹر عمر گارگیج اور سینیٹر پلوشہ خان کی تحاریکِ استحقاق پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں سینیٹرعمرگارگیج نے بتایا کہ اپنے حلقے کے ایک افسر کے تبادلے کے عوامی نوعیت کے معاملے پر انہیں ایف بی آر کے متعدد چکر لگانے پڑے، چیئرمین ایف بی آر نے وضاحت کی کہ سفارش کرنا یا کروانا قانون کے تحت مس کنڈکٹ میں آتا ہے، تاہم محکمے نے ہارڈشپ کمیٹی قائم کر رکھی ہے جو جائز درخواستوں کا جائزہ لے سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، سی ڈی اے تحلیل کرنے کی ہدایت
سینیٹر علی جیسر نے کہا کہ چھوٹے گریڈ کے افسران کو دوسرے صوبے میں بھیجنا ان کے لیے نوکری چھوڑنے کے مترادف ہے، انہوں نے کہا کہ یہ طرزِ عمل عوامی نمائندوں تک عوامی رسائی کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔
سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ کسی کرپٹ افسر کی سفارش نہیں کی جائے گی مگرغریب ملازمین کو اس نہج تک نہ پہنچایا جائے کہ وہ ملازمت چھوڑ دیں، انہوں نے کراچی کے بولٹن مارکیٹ میں رینجرز کی مبینہ زیادتیوں کی انکوائری کا بھی مطالبہ کیا، جس پر چیئرمین کمیٹی نے رپورٹ طلب کرنے کی ہدایت دی۔
مزید پڑھیں: ایف پی سی سی آئی کا ٹیکس فراڈ پر ایف بی آر کو دیے گئے گرفتاری کے اختیارات مؤخر کرنے کا مطالبہ
اجلاس میں چیئرمین سی ڈی اے کی غیر حاضری پر بھی برہمی کا اظہار کیا گیا، ارکان کا کہنا تھا کہ چیئرمین سی ڈی اے فون کالز کا جواب نہیں دیتے اور نہ ہی جواباً کال کرتے ہیں، سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ ایک ہی شخص چیئرمین سی ڈی اے اور کمشنراسلام آباد کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہے، اور یہ انتظامی طور پر ملک کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔
سینیٹر پلوشہ خان نے پارلیمنٹ لاجزمیں صفائی کے ناقص انتظامات اورچوہوں کی بھرمارپرشدید تحفظات کا اظہار کیا، کمیٹی نے سی ڈی اے کی جانب سے شمیم اخترپلاٹ کیس میں مس رپورٹنگ اورعدالت کے فیصلے پرعملدرآمد کے بجائے اعتراضات فائل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں چیئرمین سی ڈی اے کو طلب کر لیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایف بی آر پارلیمنٹ لاجز چیئرمین سی ڈی اے سینیٹ سینیٹر پلوشہ خان سینیٹر سعدیہ عباسی سینیٹر وقارمہدی سینیٹرعمرگارگیج قائمہ کمیٹی کمشنر اسلام آباد کمشنراسلام آباد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف بی ا ر پارلیمنٹ لاجز چیئرمین سی ڈی اے سینیٹ سینیٹر پلوشہ خان سینیٹر سعدیہ عباسی سینیٹر وقارمہدی سینیٹرعمرگارگیج قائمہ کمیٹی کمشنر اسلام ا باد کمشنراسلام آباد سینیٹر پلوشہ خان چیئرمین سی ڈی اے اجلاس میں نے کہا کہ ایف بی
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔