data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

 

 

سوات/مردان(نمائندگان جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ تعلیم سے محروم رکھ کر حکمران طبقات نے نوجوانوں کا استحصال کیا۔ نوجوانوں کو آئینی ترامیم کی نہیں تعلیم کی ضرورت ہے۔ 26ویں ترمیم کے موقع پر مسٹر اور مولانا ایک ہوگئے، اب پھر وہی گردان شروع ہونے جارہی ہے۔ بنوقابل سے تعلیمی انقلاب آئے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوات کبل میں بنو قابل پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ہزاروں طلبہ و طالبات نے الخدمت پاکستان کے تحت ہونے والے مفت آئی ٹی کورسز میں داخلے کا امتحان دیا۔ امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا شمالی عبدالواسع اور دیگر قیادت بھی اس موقع پر موجود تھی۔ قبل ازیں انہوں نے مردان ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کیا۔ نائب امیر ڈاکٹر عطاالرحمن، امیر خیبر پختونخوا شمالی عبدالواسع، صدر مردان بار آصف اقبال بھی اس موقع پر موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 26ویں ترمیم کے موقع پر حکمرانوں کی آنیاں جانیاں لگی رہیں، نتیجہ عدلیہ کی غلامی کی صورت میں نکلا، اب 27ویں ترمیم پر بھی وہی سلسلہ شروع ہوگیا ہے، نتیجہ پھر عوام کے استحصال کی صورت میں نکلے گا۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں 12 برس سے ایک ہی جماعت حکمرانی کررہی ہے، صوبے میں 50 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، صوبائی حکومت اس کا جواب دے، صوبائی حکومتوں کا 12 سو ارب کا تعلیمی بجٹ کرپشن کی نذر ہوجاتا ہے، نئی نسل حکمران طبقات کے خلاف متحد ہوجائے اور ان سے اپنا حق مانگے۔ جماعت اسلامی مطالبہ کرتی ہے کہ حکمران تعلیم کو کاروبار مت بنائیں، نئی نسل کو مفت تعلیم دی جائے، ہم حکمرانوں سے عوام کا حق بھی مانگیں گے اور اپنے حصے کی شمع بھی روشن کرتے رہیں گے۔ مردان ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ فارم 47 کی پارلیمنٹ اگر آئین سے چھیڑچھاڑ اور انصاف کا خون کرے تو وکلا اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہو جائیں۔ 27 ویں ترمیم کے بارے میں ہمارا موقف واضح ہے اس پر کسی قسم بات چیت کا حصہ نہیں بنیں گے اور جو جماعت اس میں حصہ لے گی وہ ترمیم کی حمایت کے مترادف ہوگی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عدالتی نظام میں پیوند کاری کی نہیں تبدیلی کی ضرورت ہے جو وقت کا تقاضا ہے 27 ویں ترمیم بھی 26 ویں ترمیم کی طرح ہوگی، کسی کو معلوم نہیں کہ اس میں کیا ہے اور اصل ڈرافٹ کہاں سے آئے گا یہ آئین کے ساتھ کھلواڑ ہے اور اس سے عدلیہ مزید کمزور ہوگی،شنید ہے 27 ویں ترمیم میں ججز کے تبادلہ میں ان کی رائے ختم کی جارہی ہے حکومت مرضی کے فیصلے لینے کے لیے اس قسم کے اقدامات کررہی ہے لیکن حکومت یاد رکھے جس معاشرے سے عدل نکل جائے وہاں انصاف ممکن نہیں۔امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ اس وقت پونے 3 کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور سرکاری اسکولوں کو این جی اوز کے حوالے کیا جارہا ہے، تعلیم خیرات نہیں عوام کا بنیادی حق ہے ،اسے طبقات میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست عہدوں کا نہیں عوام کا نام ہے۔ سیاسی جماعتوں کے مابین اختلافات اس بات پر ہوتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ صرف ان کے سر پر ہاتھ رکھے دوسروں کے سر پر نہ رکھے پارلیمنٹ کا کام صرف کسی کی ملازمت میں توسیع اور اپنے تنخواہوں میں اضافہ نہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ ہورہا ہے اور عوام کا کوئی پرسان حال نہیں مراعات یافتہ طبقے نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر قوم کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ ایک فیصد لوگ 99 فیصد لوگوں پر حکمرانی کررہے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم سازش کے ذریعے اقتدار میں آنے پر یقین نہیں رکھتے، رائے عامہ ہموار کرکے اقتدار میں آنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے عوام کو تیار کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا کی غلامی کی پالیسی پر جب تک نظر ثانی نہیں کی جاتی اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتا۔ افغانستان اور پاکستان 2 الگ الگ ملک ہیں اور افغانستان کے ساتھ با معنی مذاکرات کرنے ہوں گے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جمہوریت کی علمبردار جماعتوں میں خود جمہوریت کا فقدان ہے، وراثت وصیت اور شخصیات پر پارٹیاں چل رہی ہیں، ملک میں جمہوریت اس وقت مستحکم ہوگی جب سیاسی جماعتوں میں جمہوریت ہوگی۔

 

سوات: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کبل میں ’’ بنوقابل‘‘ تقریب سے خطاب کررہے ہیں

نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے کہا امیر جماعت اسلامی ویں ترمیم نے کہا کہ انہوں نے عوام کا

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن