اپوزیشن 27ویں ترمیم پر حکومت سے کسی قسم کی بات چیت کا حصہ نہ بنے،حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سوات/مردان(نمائندگان جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ تعلیم سے محروم رکھ کر حکمران طبقات نے نوجوانوں کا استحصال کیا۔ نوجوانوں کو آئینی ترامیم کی نہیں تعلیم کی ضرورت ہے۔ 26ویں ترمیم کے موقع پر مسٹر اور مولانا ایک ہوگئے، اب پھر وہی گردان شروع ہونے جارہی ہے۔ بنوقابل سے تعلیمی انقلاب آئے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوات کبل میں بنو قابل پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ہزاروں طلبہ و طالبات نے الخدمت پاکستان کے تحت ہونے والے مفت آئی ٹی کورسز میں داخلے کا امتحان دیا۔ امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا شمالی عبدالواسع اور دیگر قیادت بھی اس موقع پر موجود تھی۔ قبل ازیں انہوں نے مردان ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کیا۔ نائب امیر ڈاکٹر عطاالرحمن، امیر خیبر پختونخوا شمالی عبدالواسع، صدر مردان بار آصف اقبال بھی اس موقع پر موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 26ویں ترمیم کے موقع پر حکمرانوں کی آنیاں جانیاں لگی رہیں، نتیجہ عدلیہ کی غلامی کی صورت میں نکلا، اب 27ویں ترمیم پر بھی وہی سلسلہ شروع ہوگیا ہے، نتیجہ پھر عوام کے استحصال کی صورت میں نکلے گا۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں 12 برس سے ایک ہی جماعت حکمرانی کررہی ہے، صوبے میں 50 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، صوبائی حکومت اس کا جواب دے، صوبائی حکومتوں کا 12 سو ارب کا تعلیمی بجٹ کرپشن کی نذر ہوجاتا ہے، نئی نسل حکمران طبقات کے خلاف متحد ہوجائے اور ان سے اپنا حق مانگے۔ جماعت اسلامی مطالبہ کرتی ہے کہ حکمران تعلیم کو کاروبار مت بنائیں، نئی نسل کو مفت تعلیم دی جائے، ہم حکمرانوں سے عوام کا حق بھی مانگیں گے اور اپنے حصے کی شمع بھی روشن کرتے رہیں گے۔ مردان ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ فارم 47 کی پارلیمنٹ اگر آئین سے چھیڑچھاڑ اور انصاف کا خون کرے تو وکلا اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہو جائیں۔ 27 ویں ترمیم کے بارے میں ہمارا موقف واضح ہے اس پر کسی قسم بات چیت کا حصہ نہیں بنیں گے اور جو جماعت اس میں حصہ لے گی وہ ترمیم کی حمایت کے مترادف ہوگی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عدالتی نظام میں پیوند کاری کی نہیں تبدیلی کی ضرورت ہے جو وقت کا تقاضا ہے 27 ویں ترمیم بھی 26 ویں ترمیم کی طرح ہوگی، کسی کو معلوم نہیں کہ اس میں کیا ہے اور اصل ڈرافٹ کہاں سے آئے گا یہ آئین کے ساتھ کھلواڑ ہے اور اس سے عدلیہ مزید کمزور ہوگی،شنید ہے 27 ویں ترمیم میں ججز کے تبادلہ میں ان کی رائے ختم کی جارہی ہے حکومت مرضی کے فیصلے لینے کے لیے اس قسم کے اقدامات کررہی ہے لیکن حکومت یاد رکھے جس معاشرے سے عدل نکل جائے وہاں انصاف ممکن نہیں۔امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ اس وقت پونے 3 کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور سرکاری اسکولوں کو این جی اوز کے حوالے کیا جارہا ہے، تعلیم خیرات نہیں عوام کا بنیادی حق ہے ،اسے طبقات میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست عہدوں کا نہیں عوام کا نام ہے۔ سیاسی جماعتوں کے مابین اختلافات اس بات پر ہوتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ صرف ان کے سر پر ہاتھ رکھے دوسروں کے سر پر نہ رکھے پارلیمنٹ کا کام صرف کسی کی ملازمت میں توسیع اور اپنے تنخواہوں میں اضافہ نہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ ہورہا ہے اور عوام کا کوئی پرسان حال نہیں مراعات یافتہ طبقے نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر قوم کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ ایک فیصد لوگ 99 فیصد لوگوں پر حکمرانی کررہے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم سازش کے ذریعے اقتدار میں آنے پر یقین نہیں رکھتے، رائے عامہ ہموار کرکے اقتدار میں آنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے عوام کو تیار کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا کی غلامی کی پالیسی پر جب تک نظر ثانی نہیں کی جاتی اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتا۔ افغانستان اور پاکستان 2 الگ الگ ملک ہیں اور افغانستان کے ساتھ با معنی مذاکرات کرنے ہوں گے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جمہوریت کی علمبردار جماعتوں میں خود جمہوریت کا فقدان ہے، وراثت وصیت اور شخصیات پر پارٹیاں چل رہی ہیں، ملک میں جمہوریت اس وقت مستحکم ہوگی جب سیاسی جماعتوں میں جمہوریت ہوگی۔
سوات: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کبل میں ’’ بنوقابل‘‘ تقریب سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے کہا امیر جماعت اسلامی ویں ترمیم نے کہا کہ انہوں نے عوام کا
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔