ڈمپر کی ٹکر سے بھائی، ہہن جاں بحق، معاوضے کا اعلان نہ کرنے پر سندھ اسمبلی میں گرما گرمی
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
کراچی میں راشد منہاس روڈ پر ڈمپر کی ٹکر سے جاں بحق بہن بھائی کے ورثاء کیلئے معاوضے کا اعلان نہ کرنے پر سندھ اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں گرما گرمی ہوئی ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رکن طحہٰ احمد خان نے کہا کہ سینیئر وزیر شرجیل میمن نے انہی ڈمپر ڈرائیورز سے مذاکرات کرکے معاوضے کا اعلان کیا، جبکہ ڈمپروں سے قتل ہونے والوں کی جانوں کا کوئی ازالہ نہیں کیا گیا۔
ویڈیو نے چیئرمین ڈمپرز اونر ایسوسی ایشن کے بیان کی بھی نفی کر دی، چیئرمین ڈمپر ایسوسی ایشن نے حادثے کا ذمہ دار واٹر ٹینکر کو قرار دیا تھا۔
سینیئر وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ جن لوگوں نے سات ڈمپرز جلائے ہیں ان کے خلاف کارروائی کسی کی دھمکی اور دھونس کی وجہ سے نہیں روکیں گے، اگر کوئی بدمعاشی کرنے کی کوشش کرے گا تو بدمعاشی سے نمٹیں گے۔
واضح رہے کہ کراچی کے علاقے راشد منہاس روڈ پر 10 اگست کی رات ٹریفک حادثے میں بہن اور بھائی کے جاں بحق ہونے کے حادثے کے بعد شہری مشتعل ہوگئے تھے۔ شہریوں نے ڈمپر ڈرائیور پر تشدد کے بعد 7 ڈمپروں کو آگ لگا دی تھی۔
کراچی میں گزشتہ رات راشد منہاس روڈ پر ہونے والے حادثے کا سبب بننے والا ڈمپر خالی تھا جو فاسٹ ٹریک پر تیز رفتاری سے جا رہا تھا۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں قتل خطاء کی دفعہ شامل کی گئی ہے۔ ڈمپر ڈرائیور کو گرفتار کرلیا ہے۔
مدعی مقدمہ کے مطابق حادثے میں بھتیجی اور بھتیجا جاں بحق جبکہ بھائی زخمی ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔