ایم کیو ایم اور قیدی 804 میں کوئی فرق نہیں، بدمعاشوں کو بدمعاشوں کی طرح جواب ملے گا، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
کراچی:
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم اور قیدی نمبر 804 میں کوئی فرق نہیں، بدمعاشوں کو بدمعاشوں کی طرح جواب دیا جائے گا۔
سندھ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ میں انتھونی نوید کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے اہم قرارداد پیش کی۔ پاکستان کے قومی پرچم کا سفید حصہ اقلیتوں کے حقوق کا علم بردار ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام پاکستانی سازشوں کے باوجود بھی بھائیوں کی طرح رہتے ہیں۔ اقلیتوں کو پاکستان میں حقوق ترجیحی بنیادوں پر دیے جاتے ہیں۔ بھارت میں اقلیتوں کے جان و مال اور حقوق محفوظ نہیں ہیں۔ پیپلز پارٹی نے جنرل نشستوں پر اقلیتوں کو نمائندگی دی ہے۔ آصف زرادری نے جب بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بنایا تھا تب سب سے زیادہ بینیفشری اقلیتیں تھیں۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم بھارت نہیں ہیں جو اپنی اقلیتوں پر ظلم کریں۔ پاکستان میں کبھی مذہبی فساد نہیں ہونے دیا ہے۔ اقلیتوں کے اوپر مشکل وقت آتا ہے تو مسلمان بھائی گھروں کے باہر بندوقیں لے کر ان کی حفاظت کر رہے ہوتے ہیں۔ افسوس ہوا کہ اس اہم دن پر بھی متحدہ نے سیاست کرنے کی کوشش کی۔ ایم کیو ایم اور قیدی نمبر 804 میں کوئی فرق نہیں ہے۔
اس موقع پر اپوزیشن نے سندھ اسمبلی میں احتجاج بھی کیا۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ میرا نام لیا گیا تو مجھے حق ہے کہ میں جواب دوں۔ ڈمپر حادثے میں 2 بچے اللہ کو پیارے ہوگئے، اس کی جتنی مذمت کی جائے اتنی کم ہے۔ واقعے کے بعد پولیس نے ڈمپر ڈرائیور کو گرفتار کر کے ڈمپر تحویل میں لے لیا۔ اس کے بعد دہشتگرد سوچ کے لوگ سڑکوں پر آتے ہیں اور مختلف 7 ڈمپرز کو جلایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم دہشتگردی کے مقدمے چلائیں گے، کسی کی دھمکیوں سے نہیں ڈریں گے۔ جو اس سوچ کو ترغیب دیں گے ان کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔ دوبارہ بھتہ خوری اور غنڈا گردی کی سیاست نہیں ہونے دیں گے۔ وہ کون لوگ ہیں جو شہر کے امن کو تباہ کر رہے ہیں۔ ہم سب چیزوں کو دیکھ رہے ہیں۔ حکومت اپنا کام کرے گی۔ بدمعاشوں کو بدمعاشوں کی طرح جواب دیا جائے گا۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ سڑکیں کھلوانا سرکار کا کام ہے، ہم نے ایسوسی ایشن سے اسٹامپ پیپر پر معاہدہ کیا ہے کہ 25 تاریخ کے بعد کیمرہ اور ٹریکر والے ڈمپرز سڑکوں پر آئیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ متاثرہ لوگوں کی داد رسی کی جائے۔ ڈمپر ڈرائیور کو اتنا مارا گیا ہے کہ وہ قومہ میں پڑا ہوا ہے۔ جان بوجھ کر اس طرح کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔
نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔
مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔