زباں فہمی259 ؛ دارُالّسُرُور۔رام پور (حصہ چہارُم)
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
پچھلی قسط کے اختتام پر کپتان فانتوم کا ذکر اَدھورا چھوڑا تھا۔ آئیے اس منفرد شخصیت کے متعلق کچھ بات کرتے ہیں:
تاریخ ِ ادبیاتِ رام پور (از حکیم محمد حسین خاں) سے اقتباس ملاحظہ فرمائیں: ’’تاریخِ رام پور کا یہ بھی ایک روشن پہلو ہے کہ اِس میں ریاستی زندگی کے ہر موڑ پر اور علم واَدب کے ہر محاذ پر مختلف ذات پات اور مُلک و مِلّت کے لوگ شِیروشکر رہے۔ یہاں قیام الدین محمد قائم چاندپوری کے ساتھ ذوقی رام حسرتؔ دہلوی، دواکر رَاہی ؔ امروہوی کے ساتھ عروجؔ زیدی بدایونی، جارج فانتوم فرانسیسی (فرانسی: س ا ص) کے ساتھ، چیپ مین لندنی نے علم واَدب کی خدمات انجام دیں اور ریاستی دور (یعنی نوابی دور: س اص) میں کبھی مذہب یا قوم کی بنیاد پر بھید بھائو نہیں برتا گیا۔ ملازموں میں بھی محکمہ مال اور خارجہ تعلقات کا محکمہ’دارالانشاء‘ غیرمسلموں کے پاس میں تھا ۔ جن بیرونی شعراء کو رام پور مں بُلاکر نوازا گیا ، اُن میں غیرمسلموں کی بھی خاصی تعداد ہے‘‘۔
جارج فانتوم [George Fanthome] 1822ء میں رام پور میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد برنارڈ فانتوم (فرینچ میں بیغ نَو فاں توم) حیدرآباد، دکن کی فرینچ فوج میں ملازم تھے۔ وہ اُن منفرد فرنگیوں میں شامل تھے جنھوں نے خود کو مشرقی تہذیب میں رنگنے کے لیے عربی وفارسی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور خطہ ہند کی مشترکہ زبان اردو میں اظہارِخیال کو اپنا شعار بنایا۔ اُن کے عربی وفارسی اساتذہ میں حافظ شیرانی طالبؔ، مولوی محمد نورالاسلام اور مولوی محمد حفیظاللّہ شامل تھے، جبکہ شاعری میں وہ میرنجف علی شفقتؔ کے شاگرد تھے ;لکھنے والوں نے تو احتیاطاً مشورہ سخن لکھا، مگر میری رائے میں عموماً کسی کو مستند اور منجھا ہوا بتانے کے لیے ’اصلاح‘ کی بجائے ’مشورہ‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے(خود راقم کے اصلاح یافتگان میں بعض مشاہیر شامل ہیں جن کے نام کا اِخفاء ضروری ہے، سو یہ راز بھی کم ہی کھُلتا ہے کہ مشورہ سخن کے نام پر باقاعدہ اصلاح بھی ہوجاتی ہے)۔ اردو اور فارسی پر اہل زبان کی سی دسترس کے حامل کپتان فانتوم، ’صاحب‘ اور ’جرجیس‘ تخلص کرتے تھے ;جرجیس (علیہ السلام) ایک نبی کا نام ہے جنھیں اُن کی قو م نے آرے سے چِیر کر شہید کردیا تھا۔ ایک روایت کے مطابق، وہ رومن فوج میں ملازم تھے۔ یہاں بہ یک وقت دو باتیں معلوم ہوئیں:
ا)۔ کپتان جارج فانتوم کا نام اسی پیغمبر کے نام پر رکھا گیا تھا اور وہ بھی فوجی تھے۔
ب)۔ کپتان موصوف بہت مذہبی تھے اور شاعری میں (تمام دُنیَوی معاملات برتنے کے باوجود)، ایک تخلص جرجیس بھی رکھا، جس سے اُن کی عقیدت کا پتا چلتا ہے۔
{حضرت جرجیس کے زمانہ ولادت وبعثت اور نبوت کے متعلق اختلاف ِ رائے پایا جاتا ہے، مگر بہرحال مشہور تفسیری روایات کی رُو سے وہ نبی تھے۔ انھیں مسیحی روایات میں Saint Georgeکہا جاتا ہے۔ یہ نام یونانی زبان میں Georgios ہے جو لاطینی یا رومن زبان کے "georgós"سے مشتق ہے اور اِس کا مطلب ہے، مٹّی میں کام کرنے والا یا کسان ("earth-worker" or "farmer")۔ اٹلی کی نئی زبان اطالوی [Italian] میں یہی نام Giorgio بن گیا، جبکہ ہِسپانوی [Spanish] اور پُرتگِیز میں اسے Jorge لکھا جاتا ہے۔ یہی نام جب فرینچ میں گیا تو Georgesہوگیا جسے مشرق میں ’جرجیس‘ بنالیا گیا، بہرحال عربی اور فارسی میں ’جورج‘ بھی موجود ہے، نیز اُردو میں جارج لکھ کر ’جورج‘ ہی بولا جاتا ہے۔ دنیا کی اکثر زبانوں میں بہ اختلافِ تلفظ یہ اسم معرفہ موجود ہے۔}
کپتان جارج فانتوم صاحبؔ و جرجیسؔ کا نمونہ کلام ملاحظہ فرمائیں:
میں بھی فرزندِسپاہی ہوں، نہیں ڈرنے کا
تیغ ِ ابرو نہ بہت اے بُتِ رعنا چمکا
٭٭٭٭
تبسم نہ کر اَپنی ہستی پہ گُل
جہاں میں جو آیا، بہت کم رہا
٭٭٭٭
تِل تک نہیں ہے غیرمحل، اُس کے چہرے پر
اُس مُصحفِ شریف میں نقطہ نہیں غلط
٭٭٭٭
آخرش پُرسش کرے گا کوئی تو روزِجزا
جائوں گا قاتل کی مَیں تصویر لے کر ہاتھ میں
٭٭٭٭
سرسوں کے پھول بھیجے ہیں اُس نے مزار پر
لائی ہے اب کے سال شگوفہ نیا بَسَنت
یہاں موضوع کی وسعت اور گہرائی کے پیش نظر کپتان فانتوم کا ذکر فقط اس جملے پر سمیٹتا ہوں کہ وہ ہر اعتبار سے بھرپور شاعر تھے جنھوں نے اہلِ زبان کی طرح صنائع بدائع، محاورے اور ضرب الامثال کے برمحل استعمال سے اپنا کلام مزیّن کیا اور آج کے دور میں کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ کسی گورے کی طبع آزمائی ہوگی۔
ویسے ماضی میں روزنامہ ایکسپریس ہی میں خاکسار نے ایک مضمون بعنوان ’اُردو کے فرنگی شعراء‘ لکھا تھا جو آنلائن دستیاب ہے۔
تخلص ’صاحب‘ کے حامل ایک اور فرنگی شاعر جوہانس صاحب بھی تھے جو لکھنؤ کے مشہور شاعر وزیرعلی صباؔ کے شاگرد تھے، گویا امیرؔ مینائی کے اُستاد بھائی۔ اُن کا یہ شعر منقول ہے:
دیکھنا توڑ کے وحشت ، میں نکل جائوں گا
مجھ کو پہناتے ہو، زنجیر پہ زنجیر عبث!
دربارِ رام پور نے دِلّی اور لکھنؤ کے اُجڑے پُجڑے مشاہیرِسخن کو اپنے دامن ِ عاطفت میں جگہ دے کر اُن کا شعری سفر بھرپور طریقے سے جاری رکھنے اور خوش حال زندگی بسر کرنے کا خاص اہتمام کیا۔ یہ بات اظہرمِنَ الشمس ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو شاید ہمارے بڑے بڑے شعراء شہرت وعظمت و دولت کی اس بلندی کو نہ پہنچ پاتے۔ امیرؔ مینائی کے استاد، اسِیر ؔ لکھنوی (سید مظفر علی) نے اپنی رام پور آمد کا پتا اس قطعے میں دیا:
کسی زمانے میں تھا لکھنؤ مِرا مسکن
کہ آج ہے وہ چمن زار، پائمالِ خزاں
(صحیح لفظ ’پامال‘ ہے، مگر ایک طویل مدت تک اس طرح کی غلطیاں عام رہیں اور آج بھی بعض لوگ غلط ہی باندھ رہے ہیں)
خُدا کے فضل سے نعم البدل ملا مجھ کو
وہ شہر کون؟ جو ہے رام پور خُلد نِشاں
امیرؔ مینائی نے بھی حق نمک اداکرتے ہوئے ریاست اور والی ٔ ریاست کی خوب خوب مدح سرائی فرمائی، محض ایک نمونہ:
کونین کے مزے ہیں بشر کو یہاں نصیب
دونوں جہاں سے سیر ہیں مہمانِ رام پور
دربارِرام پور کے وابستگان میں ایک شاعر آزادؔ انصاری سہارن پوری بھی تھے جن کا نام اِن دنوں چنداں معروف نہیں، انھوں نے بھی تعریف میں بُخل سے کام نہیں لیا اور کہہ گئے:
لائی ہے قدردانی ِ اصحابِِ قدرداں
آیا ہوں حسبِ دعوتِ سرکارِ رام پور
سمجھا ہے مجھ کو لائق ِ لطفِ عطائے خاص
شکریہِ عنا یتِ سرکار ِ رام پور
یہی دورتھا جب دِلّی اور لکھنؤ کے متأثرین آپس میں بھی طعن وتشنیع کے مرتکب ہورہے تھے اور ایسے میں مُنیر شِکوہ آبادی کی ایک غزل بہت مشہور ہوئی جس کا مقطع تھا:
افسوس ہے منیر ؔ نہیں کوئی قدرداں
شرمندہ ہوں میں اپنے کمالوں کے سامنے
جب نواب رام پوریوسف علی خاں ناظمؔ نے یہ غزل سُنی تو ظاہر ہے کہ اُن کی غیرت نے جوش مارا، فوراً منیرؔ کو سفرخرچ ارسال کرتے ہوئے منظوم دعوت نامہ بھی دیا کہ:
ناظمؔ! منیرؔ آئے یہاں، ہم ہیں قدرداں
شرمندہ کیوں ہے اپنے کمالوں کے سامنے
منیرؔ نے اُس وقت تو معذرت چاہی، قاصد کو سفرخرچ سمیت واپس روانہ کرکے منظوم معذرت نامہ بھیجا، بعداَزآں وہ بھی رام پور پہنچے اور وہیں انتقال ہوا۔
ماقبل ذکرہوا غیرمسلم شعراء کی دربار سے وابستگی کا تو اِس ضمن میں معروف اردو شاعر تلوک چند محروم (یکم جولائی 1887ء تا 6 جنوری 1966)ؔ کا قطعہ ملاحظہ فرمائیں:
اگرچہ ہم نکل آئے ہیں گھر سے دُور بُہت
نہیں ذرا غمِ غربت کہ رام پور آئے
یہ وہ جگہ ہے کہ پاتا ہے دل سُرور جہاں
یہ وہ مقام ہے آنکھوں میں جس سے نُور آئے
اسی طرح صاحبِ علم سخنور پنڈِت برج موہن دتاتریہ کیفیؔ نے ارشاد کیا:
مرکز ِ اَدب کا رُو حِ سخن رام پور ہے
یہ شمع وہ ہے جس کا زمانے میں نور ہے
سب حکمراں کے عدل و کرم سے ہیں چین میں
میرے خیال میں تو یہ آرام پور ہے
خواجہ عبدالرئوف عشرتؔ لکھنوی نے سچ کہا تھا کہ ’’اردو زبان کی علمی خدمتوں کے لحاظ سے والی ریاست دارالسرور، رام پور کا عہد بہت وقیع تھا۔ دربارِاکبری کے نَورَتن بہت مشہور ہیں، مگر دربارِرام پور کے دُرِّانتخاب، ریاست کی تحقیقی نظر سے داد دینے کے قابل تھے۔ کوئی مشہور شاعر، کوئی دانا پنڈِت یا مستند عالم ایسا نہ تھا جو ریاست کا وظیفہ خوار نہ ہو اور دربار رام پور سے تعلق نہ رکھتا ہو۔ شاعروں کا ایسا انتخاب تو کسی بادشاہ نے بھی نہ کیا ہوگا۔ اسی بناء پر لوگ آج تک دربارِ رام پور کو یاد کرتے ہیں‘‘۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ رام پور کی شہرت ومقبولیت کا بنیادی سبب، دربارِ رام پور کا منفرد سلوک تھا۔ نواب صاحب ہر طرح کے نازک مزاج، تُند خُو یا گرم مزاج کے حامل شاعروں کی نازبرداری کرتے، انھیں باقاعدہ ملازم رکھتے، اُن کی معاشی سرپرستی فرماتے اور کہیں ایسا کچھ نہ ہونے دیتے کہ اُن کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچے۔ یہ مثال یقیناً لائق صدتحسین وتقلید ہے، ورنہ شاہوں، راجوں اور نوابوں کے یہاں ہر اِقدام کا ڈھنڈورا پِیٹا جانا معمول کی بات تھی۔ یہی سبب ہے کہ دیارِغیر بشمول عرب، ایران و افغانستان سے بھی اہل علم وادب کشاں کشاں رام پور چلے آتے تھے۔
ایک مرتبہ پھر تاریخ سے خوشہ چینی کرتے ہوئے عرض کرتا ہوں کہ ریاست ِ رام پور کی تشکیل درحقیقت ایک تخریب کے نتیجے میں ممکن ہوئی یعنی یہ کہ 7 اکتوبر 1774ء کو فرنگیوں نے کٹھیر (روہیل کھنڈ) پر قابض روہیلوں کو جنگ میں شکست دے کر، رام پور تک محدود نہ کیا ہوتا تو ایک جُدا مگر خوش حال ومستحکم ریاست، رام پور معرضِ وجود میں نہ آتی، گویا رام پوری یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ’’مِری تعمیر میں مُضمِر ہے اِک صورت خرابی کی‘‘۔ 1774ء میں، اس سانحے کے بعد، نواب فیض اللّہ خاں نے اپنے بھتیجے اور داماد، صاحب زادہ مصطفی خاں کے مشورے پر قدیم بستی ’رَم پورہ‘ یا رام پور (قصبہ شاہ آباد کے دیہہ) کے علاقے میں نیا شہر بسایا (جہاں نواب موصوف پہلے سے سکونت پذیر تھے)، تو اُس کا نام ’مصطفی آباد‘ ہی رکھا تھا جو بعداَزآں قدیم سے تبدیل ہوکر، رام پور ہوگیا۔ ماقبل یہ ذکر کرچکا ہوں کہ اس قدیم نام کی وجہ تسمیہ کیا ہے۔
یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ نواب فیض اللّہ خاں، صاحبِ شمشیر تھے، شاعر، ادیب یا عالم نہ تھے، مگر علم دوست شخص تھے، لہٰذا انھوں نے اپنے نجی کُتب خانے کے قدیم مخطوطات اور کُتب پر مبنی رضا لائبریری، رام پور کا سنگ ِ بنیاد رکھا جو آگے چل کر ایک معتبر اِدارہ بن گیا۔ باقاعدہ ادبی سرگرمیوں کا آغاز، بہرحال اُن سے منسوب نہیں، اس ضمن میں ہمیں نواب کے چھوٹے بھائی صاحب زادہ محمد یارخاں امیرؔ کا ذکر کرنا واجب ہے (جو شعرگوئی، مُوسِیقی، شکار اور سیروسیاحت کے شیدائی تھے)، جن کے طفیل اوّل اوّل ٹانڈہ، نزد آنولہ (نواحِ رام پور) میں قائم ؔ چاند پوری و تلامذہ کی آمد اور شعری سرگرمیوں سے ادبی فضاء قائم ہوئی، پھر یہ سلسلہ بتدریج ریاست کے قیام کے بعد، وہاں منتقل ہوگیا۔ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ صاحب زادہ موصوف نے اپنے وقت کے اُستادِسخن میرزا رفیع سوداؔ کو اپنی شعری اصلاح وسرپرستی کے لیے دعوت دی تھی، مگر اُن کے انکار کے بعد قائم ؔ کو مدعو کیا۔ شاگرد صاحب زادہ امیرؔ نے اُن کا وظیفہ سَوروپے (100) روپے ماہوار مقرر کیا تھا۔ اُن دنوں اس سلسلے سے فیض اُٹھانے والوں میں فِدوی ؔلاہوری، محمد نعیم پروانہؔ، علی شاہ شاعرؔ، حکیم کبیر علی کبیر ؔسنبھلی، میاں عشرتؔ اور مُصحفیؔ جیسے اسماء شامل تھے۔ ان کے علاوہ ایک طویل فہرست دستیاب ہے جس میں بعض شعراء فقط فارسی گو تھے یعنی اُن کی وجہ شہرت اُن کا فارسی کلام تھا، جبکہ متعدد شعراء اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہتے تھے۔ ان میں بعض ہندو بھی شامل تھے۔
قائمؔ چاند پوری اس پائے کے شاعر تھے کہ تمام متداول تذکروں میں اُن کا نام اور احوال منقول ہے، معتبر ومحقق تذکرہ نگار اِس امر سے اتفاق کرتے ہیں کہ وہ میرؔ اور دردؔ کے پائے کے شاعر تھے، جبکہ شیخ چاند ایم ۔اے کی تحقیق کے مطابق، قائم ؔ کے پانچ سو (500) اشعار، دیوانِ سوداؔ کے مرتب کی سہل انگاری کے سبب، میرزا سوداؔ سے منسوب ہوگئے ;ظاہر ہے کہ وہ کلام قائمؔ نے اپنے اس آخری استاد (بعد اَز شاہ ہدایتؔ و خواجہ میر دردؔ) میرزا محمد رفیع سوداؔ کو بغرضِ اصلاح دیا تھا۔ ناواقفین کے لیے عرض ہے کہ یہ کتاب ہمارے ایم اے اردو کے نصاب میں شامل ہے۔ قائم ؔ کا مشہور بلکہ ضرب المثل شعر ہے:
قسمت تو دیکھ، ٹُوٹی ہے جاکر کہاں کمند
کچھ دُور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا
اسے بھی یار لوگوں نے اپنے حساب سے تبدیل کرکے مشہور کردیا۔
قائم ؔ کا یہ شعر بھی مشہور تھا:
قائمؔ اور تجھ سے طلب بوسے کی، کیوں کر کہیے
یوں وہ ناداں ہے پر اِتنا تو بدآموز نہیں
صاحب زادہ محمد یار خاں امیرؔ جیسے نغز گوشاعر کا دیوان مرتب ہوا نہ محفوظ، مگر منتشر کلام جابجا ملتا ہے۔ اُن کا یہ مشہور ِزمانہ شعر دوسرے شعراء سے منسوب کردیا جاتا ہے اور اس میں تبدیلی بھی کردی جاتی ہے:
شکست وفتح میاں اتفاق ہے لیکن
مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا
(جاری)
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جارج فانتوم رام پور کا شامل تھے جاتا ہے نے اپنے کے لیے کا نام
پڑھیں:
زباں فہمی289؛ میں بھی رانی، تُو بھی رانی........
خاکسار نے پچھلے دنوں اپنی بزمِ زباں فہمی میں احباب سے پوچھا کہ آیا آپ نے یہ کہاوت یا مَثَل سُنی ہے ، ’’میں بھی رانی، تُو بھی رانی۔ کون بھرے سرکار کا پانی؟‘‘ تو پتا چلا کہ اس کہاوت کے کئی رُوپ [versions] ہیں اور یہ فرق غالباً علاقائی بنیاد پر ہے۔
لغات میں یہ تمام رُوپ موجود نہیں، اس لیے تلاش و جستجو کا عمل مزید اہم ہوگیا۔ احباب سے گفتگو میں یہ ضرور پوچھتا گیا کہ آپ کا آبائی تعلق کہاں سے ہے ۔ متعددکا تعلق دِلّی اور یوپی کے دیگر شہروں سے تھا، کچھ کا بِہار سے تو کچھ کا کہیں اور سے۔
اب یہ فہرست اراکین ِ بز م زباں فہمی کی آراء اور بعض دیگر ذرایع سے مرتب کرکے بات آگے بڑھاتا ہوں:
۱)۔ میں بھی رانی، تُو بھی رانی۔ کون بھرے سرکارکا پانی؟
ب)۔ میں بھی رانی، تُو بھی رانی۔ کون بھرے سرکاری پانی؟
میرے خیال میں ممکن ہے کہ اصل کہاوت ’’سرکار کا پانی‘‘ سے جُڑی ہوئی ہو یعنی ’سرکار‘ بمعنیٰ شوہر۔یا۔حاکم ِ وقت بشمول کوئی نواب، اور یہ دو کنیزوں یا بیویوں کے بیچ ہونے والا مکالمہ ہو جسے کہاوت کی طرح شہر ت مل گئی۔ اسی کی بگڑی ہوئی شکل میں ’’سرکاری پانی‘‘ شامل ہے۔(س ا ص)
ج)۔ تو بھی رانی میں بھی رانی، کون بھرے پنگھٹ کا پانی
د)۔ تُو بھی رانی مَیں بھی رانی، کَون بَھرے پَن گَھٹ پانی
معمولی فرق سے یہ ایک ہی رُوپ ہے جس کی توجیہ یہ پیش کی جاتی ہے کہ قدیم دور میں گھر گھر نلکے تونہیں تھے، پانی بھرنے کے لیے پن گھٹ (ملاکر لکھنے سے ابہام ہوتا ہے، اس لیے الگ لکھنا بہتر ہے) پرجانا پڑتا تھا۔ (س ا ص)
ہ)۔ مَیں بھی رانی تُو بھی رانی، کَون سَر پَر ڈالے پانی
و)۔ میں بھی رانی تو بھی رانی، کون ڈالے سر پر پانی
ّّ ممتاز شاعرہ آمنہ عالم صاحبہ کا قیاس ہے کہ اس کہاوت کا یہ رُوپ ’’میں بھی رانی، تو بھی رانی، کون ڈالے سر پر پانی‘‘ کا اطلاق یوں صحیح ہوسکتا ہے کہ بقول اُن کے ’’یہ بھی ہو سکتا ہے(کہ) طبقہ اشرافیہ میں خواتین کا سر دُھلانے کے لیے نائن ملازم ہوتی تھی (جو) پہلے چوکی پر بٹھا کر سر دُھلاتی تھی۔ پھر غسل کے لیے حمام خانے میں جاتے تھے۔ والدہ بتاتی تھیں کہ شادی سے پہلے اُن کے گھر میں یہی دستور رہا، ہمیشہ نائن نے سر دُھلایا ۔ اس صورت حال میں سر پہ پانی ڈالنے والا محاورہ بھی درست (لگتا) ہے‘‘۔
{یہاں خاکسار سہیل نئے قارئین خصوصاً نئی نسل کے نمایندوں کی اطلاع کے لیے عرض کرتا ہے کہ پچھلے ادوار ۔یا۔پرانے وقتوں میں بعض پیشوں سے خاندانی طور پر جُڑے ہوئے لوگ بعض کام اضافی کرتے اور حسبِ موقع انعام واِکرام پاتے تھے۔ نائی یعنی حجّام اور اُس کی بیوی نیز کبھی (حسبِ ضرورت و تقاضا) دیگر اہلِ خانہ کسی بھی گھر میں، شادی بیاہ۔ یا۔ کسی دوسرے موقع پر، ایسے اضافی کام کردیا کرتے تھے جن کے لیے آج ہم الگ الگ ملازم رکھتے ہیں۔ نائی ایک جگہ سے دوسری جگہ ، ایک گھر سے دوسرے گھر پیغام رسانی کی خدمت بھی انجام دیا کرتے تھے۔
لغت میں نائی اور نائن کی تعریف کچھ اِس طرح ملتی ہے:
نائی: ہندی، اسم مذکر۔حجّام، مُو تَراش(فارسی: س ا ص)، خلیفہ;قصبات کی زبان ہے(جُہَلاء نے خلیفہ بمعنیٰ نائب یا حکمراں کی بجائے حجّام ہی کو یہ نام دے دیا اور نوبت بہ ایں جا رسید کہ آج بھی گاؤں دیہات میں نائی کو خلیفہ ہی کہا جاتا ہے، بلکہ شہروں میں بھی گاؤں سے آئے ہوئے لوگ یہی لفظ استعمال کرتے ہیں: س اص)، نائی کی برات میں سبھی ٹھاکر ۔مثل ۔وہاں بولتے ہیں جہاں سب ’امتیازی‘ ہوں اور کام کرنے والا کوئی نہ ہو۔اپنی قوم میں ہرکوئی ذی عزت ہے۔ اپنے گھر میں سب عزت دار ہوتے ہیں ۔نائی نائی بال کِتنے، ججمان جی ! آگے آتے ہیں۔مثل ۔ جب کوئی فوراً ہی سامنے ظاہر ہونے والی بات کی نسبت پوچھے ، وہاں بولتے ہیں۔نائی کو گنوار لوگ ناؤ بَروزنِ خالُو بھی کہا کرتے تھے، اسی طرح اُس کی بیوی کو نائن کی بجائے ناوَن کہہ کر مخاطب کیا جاتا تھا۔ بقول مولوی نیّر، یہ گاؤں یا قصبے کی بولی ٹھولی تھی(نوراللغات جلد دُوُم)۔یہاں مؤخرالذکر مَثَل یا کہاوت کا متن دیگر مقامات سے مختلف ہے، خصوصاً بول چال کی زبان سے( س ا ص)۔اس اہم لغت کے فاضل مؤلف یہ بتانا بھول گئے کہ نائی ختنہ بھی کیا کرتا ہے اور شادی بیاہ یا کسی اہم موقع پر پکوان ازقسمے چاول وغیرہ پکانے کی ذمے داری بھی اُسے ہی سونپی جاتی تھی۔
لگے ہاتھوں نامور طنز ومزاح گو جناب اکبر ؔ الہ آبادی کا ایک شعر بھی دیکھ لیجے:
جو وَقتِ ختنہ مَیں چیخا تو نائی نے کہا ہنس کر
مُسَلمانی میں طاقت ، خون ہی بہنے سے آتی ہے
دل چسپ بات یہ ہے کہ جُہَلاء کے یہاں ختنے کو ’مسلمانی ہونا‘ کہا جاتا ہے۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو شاعر نے ’مسلمانی‘ کا بہت بامعنیٰ استعمال کیا ۔
نائنیں رشتے طے کروانے میں وہ کردار اَدا کرتی تھیں جو آج کل ’رشتہ آنٹیاں‘ بامعاوضہ کرتی ہیں یعنی کہیں کوئی لڑکی دیکھی تو اُس کے اہل خانہ یا کسی لڑکے کے اہل خانہ کی فرمائش اور تقاضے کے مطابق، دوسرے گھر میں اُس کا ذکر کردیا، پھر رشتہ طے ہونے کی صورت میں دولھا ، دلھن کے گھر والے اپنی خوشی سے کچھ رقم یا انعام دے دیا کرتے تھے۔
اس مقام پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک اہم نگارش کا اقتباس بھی نقل کروں:
’’پشتون قبیلوی سیٹ اَپ میں ’نائی‘کی اہمیت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً وہ ایک کسب گر ہوکر پورے ٹل کے افراد کی خدمت ایمانداری سے کرتا تھا، جس کا معاوضہ اُس کو غلّے اور بعض موقعوں پر نقدی کی شکل میں ملتا تھا۔ خاص کر شادی بیاہ یا غم کے دوران میں اس کا موجود ہونا اور فرائضِ منصبی بطریقِ احسن نبھانا ایک اہم معاشرتی فریضہ تھا۔ مزید برآں لشکر جمع کرنے، اُشر کا اعلان کرنے، جنگ کی تیاری کرنے اور عوام الناس کو کسی مسئلے کی اہم خبر پہنچانے کے لیے وہ نقارہ (ڈمامہ) بجاتا تھا۔ نیز وہ گھوڑے یا خچر کا مہار پکڑکر نائیک کی زنانی کو میکے سے صحیح سالم گھر پہنچاتا تھا اور خیرات، شادی اور ختنہ وغیرہ میں چاول پکاتا تھا۔ بعض موقعوں پر تو اس کے وارے نیارے ہوجاتے تھے۔ مثلاً وہ خوشخبری (زیرے) بچوں کے سر کے بال لینے (سنڈے)، دھونی دینے (لوگے کول) اور معاوضہ مہار لینے (جلب) کا رقم ضرور لیتا تھا۔ ایسے موقعوں پر وہ کنجوسوں کی خوب خبر لیتا تھا لیکن بعد میں شکوہ بہت کم کرتا تھا۔ البتہ سخی لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے نہیں تھکتا تھا۔
کہتے ہیں کہ باتونی ہونا، نائی اور کوچوان کی گٹھی میں شامل ہے۔ کیوں کہ دونوں انتظار کروانے کے لیے لوگوں کو باتوں میں اُلجھاتے ہیں، لیکن یہ ان کی کاروباری مجبوری ہے جو رفتہ رفتہ ان کی فطرتِ ثانیہ بن گئی ہے اور ہر پیشہ جب نسلوں تک جاری رہے، تو کاروباری نفسیات کے نتیجے میں بننے والی عادات واطوار انسان کو دائمی خول میں بند کرتی ہیں، جس میں انسان خود اپنی حیثیت کا غلام بن جاتا ہے‘‘۔ مضمون ’’نائی کا پیشہ سماجی حیثیت کے تناظر میں‘‘، تحریرساجد ابو تلتان، باخبر سُوات ڈاٹ کام }۔
آئیے اب کہاوت کے باقی رُوپ بھی دیکھ لیں:
ز)۔ مَیں بھی رانی تُو بھی رانی، کَون بھرے نَدّی سے پانی
یہاں تو واضح طور پر یہ کہاوت دیہی پس منظر سے منسلک معلوم ہوتی ہے۔ (س ا ص)
ح)۔ میں بھی رانی، تُو بھی رانی، کون کھینچے کوئیں کا پانی
ط)۔ میں بھی رانی تو بھی رانی، کھینچے کون کوئیں کا پانی
یہ رُوپ بھی شہری نہیں، دیہی معلوم ہوتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کہاوت گھُوم پھِر کر دیہات تک پہنچی ہوتو وہاں کسی نے یوں تبدیل کردیا ہو۔ (سا ص)
ی)۔ مَیں بھی رانی تُو بھی رانی، کَون بَھرے گا پانی
یہ بالکل غیر واضح رُوپ ہے کہ کس نے کس کا پانی بھرنے کی بات کی۔(س ا ص)
ک)۔میں بھی رانی تو بھی رانی، کون بھرے گا گھر کا پانی
یہاں لگتا ہے کہ پرانی کہاوت کا نیا رُوپ اختیار کرلیا گیا جیسے ہمارے لوگ باگ ’عوامی‘ یا ’تحتی‘ یا ذیلی یا بازاری (Slang) گفتگو میں کرلیتے ہیں۔ (س ا ص)
جب ہم اسی کہاوت کے اصل متن کی تحقیق کرتے ہوئے،لغات سے رجوع کریں تو ہمیں یہ معلومات میسر آتی ہیں:
1۔ میں بھی رانی تو بھی رانی، کون ڈالے سر پر پانی۔ مثل (عو)۔ احدیوں اور کاہلوں کی نسبت بولتی ہیں جو بہانے ہی کرتے ہیں (نوراللغات)۔یہ لفظ ’احدی‘ بہت سے لوگوں کے لیے نامانوس اور متروک ہوگا۔ اس کا مطلب بھی سُست اور کاہل ہی ہے۔ یہ پرانی زنانہ بولی میں شامل تھا جو ہم نے اپنے بچپن میں اپنی عظیم ’زباں فہم‘ والدہ مرحومہ سے سُنا۔ البتہ قابل ِ ذکر اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس کا مصدر ۔یا۔ماخذ نہیں ملتا۔( س ا ص)
2۔ میں بھی رانی تو بھی رانی، کون ڈالے سر پر پانی۔ کہاوت: کاہلوں اور حِیلہ حوالہ کرنے والوں کی نسبت بولتے ہیں۔ کام چور بہانہ ڈھونڈتا ہے۔ (فرہنگِ آصفیہ) (یہ حِیلہ حوالہ بھی اب متروک ہے : س اص)
3۔ میں بھی رانی، تو بھی رانی، کون سرپر ڈالے پانی: جب سب ہی امیر زادیاں ہوں تو کام نہیں چل سکتا (محاوراتِ نسواں از محترمہ وزیربیگم ضیاءؔ، ادیب فاضل، جامعہ پنجاب، لاہور: طبع دُوُم۔1944)
4۔ میں بھی رانی، تو بھی رانی، کون ڈالے سر پر پانی۔نیز۔کون بھرے پنگھٹ پہ پانی: اردو۔مثل :کاہلوں کی نسبت کہتے ہیں (علمی اردو لغت از وارث سرہندی)
5۔ میں بھی رانی تو بھی رانی، کون ڈالے سر پر پانی۔ نیز کون بھرے پنگھٹ پہ پانی: اردو۔مثل۔کاہلوں کی نسبت کہتے ہیں جو کام کرنے سے جی چُراتے ہیں۔ (فیروزاللغات جامع ۔نیا ایڈیشن)
6۔تُو بھی رانی، میں بھی رانی، کون بھرے پن گھٹ پر پانی: کہاوت۔یعنی جب ادنیٰ و اعلیٰ کو برابری کا دعویٰ ہو تو کام کس سے لیا جائے۔(لغات النساء از مولوی سید احمد دہلوی، مؤلف ِ فرہنگ آصفیہ۔1917)۔ انتہائی تعجب خیز نکتہ ہے کہ ایک ہی مؤلف یا مدیر کی دو مختلف لغات میں ایک کہاوت دو مختلف انداز میں درج کی گئی۔
7۔ا)۔ میں بھی رانی ، تُو بھی رانی، کون بھرے (گا) ندّی سے پانی
ب)۔ میں بھی رانی ، تُو بھی رانی، کون سر پر ڈالے پانی
ج)۔ میں بھی رانی ، تُو بھی رانی، کھینچے کون کُوئیں کا پانی
ا)۔ کہاوت: کاہلوں کی نسبت کہتے ہیں، جب دونوں کاہل ہوں اور کام سے جی چُرائیں تو کہتے ہیں۔
ب)۔ سب ہی امیرزادیاں ہوں تو کام نہیں چل سکتا۔
(اردو لغت۔ تاریخی اصول پر ، جلد 19، اردو لغت بورڈ)
وحیدہ نسیم صاحبہ کی مرتب کی ہوئی لغت،’لغات النساء‘ میں یہ اہم کہاوت یا مثل شامل نہیں، جبکہ حیرت سی حیرت ہے کہ ’دِلّی کی بیگماتی زبان‘ از محی الدین حسن ، مطبوعہ جامعہ نگر، نئی دہلی ، ستمبر 1976ء اور ’’اردو بول چال (زنانہ) عُرف لغات الخواتین مؤلفہ مولوی امجدعلی اشہری (مطبوعہ 1925ء) جیسی اہم کتب میں بھی اس کا کوئی اندراج نہیں، نیز فرہنگ ِ اردو محاورات اَز پروفیسر محمد حسن ، اصل مطبوعہ ہندوستان ،چربہ اشاعت لاہور (1996) اور رُوہیل کھنڈ اُردو لغت مؤلفہ رئیس رامپوری ، مطبوعہ لاہور (مارچ 1999) میں اس کا ذکر نہیں;دیگر کتب میں بھی تلاش بے سُود ثابت ہوئی۔
خاکسار کے حلقہ احباب اور واٹس ایپ حلقے ’بزم زباں فہمی‘ کے اراکین نے اپنے اپنے گھر میں رائج اسی کہاوت کے رُوپ اس طرح بیان کیے:
ا)۔ آمنہ عالم، شاعرہ۔کراچی( آبائی وطن : سہارن پور، یوپی ): میں بھی رانی تو بھی رانی، کون بھرے گا گھر کا پانی
ب)۔ تسنیم کوثر، شاعرہ، ادیبہ۔لاہور (آبائی وطن: دہلی): ۔ایضاً۔
ج)۔ ماہ جبیں آصف، ادیبہ۔ کراچی (آبائی وطن: لکھنؤ) میں بھی رانی تو بھی رانی، کون بھرے گھر کا پانی
د)۔ زاہد حسین جوہری، شاعر، نقاد، بینکار، معلّم، نشریات کار (آبائی وطن : جے پور): مَیں بھی رانی تُو بھی رانی، کَون بَھرے گا پانی
ہ)۔ مہ جبین زاہد (بیگم زاہد جوہری)، نشریات کار (آبائی وطن: بِہار):۔ ایضاً۔
و)۔ ربیعہ اکرم، نشریات کار [Broadcaster]، معلّم۔کراچی(ددھیال: دِلّی، ننھیال: بلند شہر): میں بھی رانی تو بھی رانی، کون بھرے پنگھٹ پہ پانی۔
اِک ذرا سی بات کا فسانہ ۔یا۔ پر کا کوّا بنانا اسے کہتے ہیں۔ یہ اہل زبان ہی کا کام ہے، ہر کَس وناکَس کے بس کی بات نہیں! n