5 اگست احتجاج، پی ٹی آئی کارکنان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد کی عدالت میں پی ٹی آئی کے کارکنان کو پیش کیا گیا، عدالت نے ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بیجھنے کا حکم دے دیا۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف تھانہ لوہی بھیر میں مقدمہ درج ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے 5 اگست احتجاج پر پی ٹی آئی کارکنان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ پی ٹی آئی کارکنان کو 2 دن کا جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا، پولیس کی جانب سے ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزمان سے ابھی ریکوری کرنی ہے مزید ریمانڈ دیا جائے، وکیل صفائی نے استدعا کی کہ ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جائے۔
ڈیوٹی مجسٹریٹ سید حیدر شاہ کی عدالت میں ملزمان کو پیش کیا گیا، عدالت نے ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بیجھنے کا حکم دے دیا۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف تھانہ لوہی بھیر میں مقدمہ درج ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل پی ٹی آئی کارکنان کارکنان کو ملزمان کو کا حکم
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ