ترکی کے شمال مغربی صوبے چناق قلعہ (Canakkale) کے مرکزی علاقے میں پیر کے روز خوفناک جنگلاتی آگ بھڑک اٹھی جو تیز ہواؤں کے باعث تیزی سے پھیل گئی۔ 

مقامی حکام اور میڈیا کے مطابق آگ پر قابو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے جبکہ سیکڑوں افراد کو احتیاطی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

صوبائی گورنر عمر تورامان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر بتایا کہ آگ بجھانے کے لیے تقریباً 700 اہلکار، درجنوں گاڑیاں، فائر ٹرک، طیارے اور ہیلی کاپٹر تعینات کیے گئے ہیں۔ آگ کے خطرے کے پیشِ نظر ایک یونیورسٹی کیمپس، رہائشی علاقے اور فوجی تنصیبات کو خالی کرایا گیا۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں تاکہ ایمرجنسی گاڑیاں باآسانی آمدورفت کر سکیں۔

ریسکیو کارروائی کے دوران شہر کا ایئرپورٹ، اہم شاہراہ کا کچھ حصہ اور آبنائے داردانیلز (Dardanelles Strait) کئی گھنٹوں کے لیے بند کر دی گئی، تاہم سورج غروب ہونے کے بعد یہ دوبارہ کھول دی گئیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شعلے جنگل کے وسیع حصے کو لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں اور گھنے دھوئیں کے بادل آسمان میں بلند ہو رہے ہیں۔ ہیلی کاپٹرز کو داردانیلز کی آبنائے سے پانی بھر کر آگ پر پھینکتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ پولیس کے واٹر کینن (پانی پھینکنے والی گاڑیاں) رہائشی عمارتوں میں لگی آگ کو بجھانے میں مصروف رہیں۔

ترکی کے محکمہ موسمیات کے مطابق علاقے میں درجہ حرارت 33 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جبکہ ہواؤں کی رفتار 66 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی، جس نے آگ کو مزید پھیلنے میں مدد دی۔

گورنر کے مطابق تقریباً 50 افراد دھوئیں سے متاثر ہوئے اور قریبی اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی گئی، تاہم کسی کی حالت تشویشناک نہیں ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ترکی میں جولائی کا مہینہ گزشتہ 55 سالوں کا سب سے گرم مہینہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث ملک میں جنگلاتی آگ کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت