کینیڈا سے درآمد شدہ کینولا سیڈ کی ڈمپنگ ہوئی ہے، چینی وزارت تجارت
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
کینیڈا سے درآمد شدہ کینولا سیڈ کی ڈمپنگ ہوئی ہے، چینی وزارت تجارت WhatsAppFacebookTwitter 0 12 August, 2025 سب نیوز
بیجنگ :چین کی وزارت تجارت نے کینیڈا میں پیدا ہونے والے درآمد شدہ کینولا سیڈ کی اینٹی ڈمپنگ تحقیقات پر ابتدائی فیصلے کا اعلان کیا ۔چینی تفتیشی ایجنسی کے مطابق کینیڈا سے درآمد شدہ کینولا سیڈ کی ڈمپنگ ہوئی ہے۔ منگل کے روز وزارت تجارت نے کینیڈا، جاپان اور بھارت سے درآمد شدہ ہیلوجنیٹڈ بیوٹیل ربڑ کی اینٹی ڈمپنگ تحقیقات پر ابتدائی فیصلے بھی سنائے،
جن کے مطابق کینیڈا اور جاپان سے درآمد شدہ مصنوعات کی ڈمپنگ ہوئی ہے جبکہ اسی عرصے میں بھارت سے درآمد کی جانے والی تحقیقاتی مصنوعات کا چین کی درآمد کی جانے والی ہیلوجنیٹڈ بیوٹیل ربڑ کی کل مقدار میں تناسب 3 فیصد سے بھی کم ثابت ہوئی اور یوں اینٹی ڈمپنگ تحقیقات کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
چین میں اینٹی ڈمپنگ ریگولیشنز کے آرٹیکل 28 اور 29 کے مطابق تحقیقاتی ادارے نے سیکیورٹی ڈپازٹس کی شکل میں عارضی اینٹی ڈمپنگ اقدامات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔اسی روز ، چینی وزارت تجارت نے کینیڈا میں پیدا ہونے والے درآمد شدہ مٹر اسٹارچ کے خلاف اینٹی ڈمپنگ تحقیقات شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں کل جشنِ آزادی کی پرچم کشائی و سیمینار کا انعقاد سونے کی قیمت میں آج بھی کمی، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ہنڈرڈ انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا 16 امریکی اداروں کے خلاف متعلقہ پابندیاں مزید 90 دن تک معطل رہیں گی، چینی وزارت تجارت چین ۔ امریکہ اسٹاک ہوم معاشی و تجارتی مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جاری امریکا اور چین میں تجارتی جنگ 90 روز کے لیے مؤخر، بھاری ٹیرف کا خطرہ ٹل گیا پاکستان میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کمیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اینٹی ڈمپنگ تحقیقات کی ڈمپنگ ہوئی ہے درا مد شدہ کی
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔