پیدائش، وفات، نکاح نامہ کے سرٹیفکیٹس اب گھر بیٹھے حاصل کریں
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک: پنجاب لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے شہریوں کے لیے اہم سہولت کا اعلان کرتے ہوئے ایک نئی موبائل ایپ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے ذریعے پیدائش، وفات اور نکاح نامے جیسے سرکاری سرٹیفکیٹس گھر بیٹھے حاصل کیے جا سکیں گے۔
محکمہ کے مطابق اس ایپ کے ذریعے شہری اپنے مطلوبہ سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دے سکیں گے، مطلوبہ معلومات اور کاغذات اپ لوڈ کر سکیں گے اور مقررہ فیس بھی آن لائن جمع کرا سکیں گے۔ درخواست کی جانچ اور منظوری کے بعد متعلقہ سرٹیفکیٹ براہِ راست درخواست دہندہ کے پتے پر پہنچا دیا جائے گا۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ڈین تعیناتی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
اس نظام کے آغاز سے وہ مشکلات ختم ہونے کی امید ہے جو روایتی طریقہ کار میں سامنے آتی ہیں جیسے کہ سرکاری دفاتر کے طویل چکر، لمبی قطاریں اور بار بار فالو اپ کے لیے جانا۔ اس آن لائن سہولت کے ذریعے وقت اور محنت دونوں کی بچت ہوگی اور شفافیت بھی یقینی بنائی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پنجاب حکومت کے ڈیجیٹل سہولت منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد شہریوں کے روزمرہ کے امور کو جدید، تیز اور آسان بنانا ہے۔ موبائل ایپ آئندہ چند روز میں باضابطہ طور پر لانچ کر دی جائے گی جس کے بعد شہری ان خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
راولپنڈی میں ڈینگی کی شدت میں اضافہ۔ 58 نئے کیسز کی تصدیق
یہ نیا نظام پنجاب میں سرکاری خدمات کو مؤثر اور عوام دوست بنانے کی طرف ایک مثبت قدم تصور کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف وقت کی بچت کرے گا بلکہ کاغذی کارروائی اور دفتر جانے کی ضرورت کو بھی کم کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سکیں گے
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت