عمران خان کی ضمانت درخواستیں خارج کرنے کے فیصلے پر چیف جسٹس آف پاکستان کے سوالات
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
چیف جسٹس آف پاکستان نے عمران خان کی ضمانت کی درخواستیں خارج کرنے کے فیصلے پر اہم سوالات اٹھا دیے۔
سپریم کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف کی 8 اپیلوں پر پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کو قانونی سوالات پر تیاری کرنے کا حکم دے دیا۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی مختصر سماعت کی، جس میں جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بھی شامل تھے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 19 اگست تک ملتوی کر دی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت درخواستیں خارج کرنے کے فیصلے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ ضمانت کے کیس میں کیس کے مرکزی میرٹس پر کیسے رائے دے سکتی تھی۔ انہوں نے وکلا سے کہا کہ اس قانونی نقطے پر عدالت کی معاونت کریں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کوئی ایسی فائنڈنگ نہیں دے گی جس سے کسی کا کیس متاثر ہو۔ کیا ضمانت کیس میں حتمی آبزرویشنز دی جا سکتی ہیں؟۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آج صرف پراسیکیوشن کو نوٹس جاری کیا جا رہا ہے، وکلا آئندہ سماعت تک لیگل ایشوز پر تیاری کر لیں۔ فریقین کے وکلا قانونی سوالات پر عدالت کی معاونت کریں تاکہ کیس کا فیصلہ میرٹ پر ہو سکے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔