چینی کوہ پیما کے ٹو سے اترتے ہوئے پتھروں کی زد میں آکر جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
اسکردو: دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو پر مہم کے دوران چین کی کوہ پیما گوان جنگ ایک حادثے میں جاں بحق ہو گئیں۔ پاکستان الپائن کلب کے مطابق یہ حادثہ منگل کی رات اس وقت پیش آیا جب وہ چوٹی سے اترتے ہوئے پتھروں کی زد میں آ گئیں۔
حادثہ ابروزی اسپر روٹ پر کیمپ ون اور ایڈوانسڈ بیس کیمپ کے درمیان پیش آیا، جو پتھروں کے گرنے کے لیے خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ گوان جنگ پیر کو اپنے ساتھی کوہ پیماؤں کے ساتھ کامیابی سے چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے سفر پر تھیں۔ ان کی لاش نکالنے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ باقی کوہ پیما بحفاظت بیس کیمپ پہنچ گئے۔
اس مہم میں مختلف ممالک کے کوہ پیما شامل تھے، جنہوں نے سخت موسمی حالات کے باوجود کے ٹو کو سر کیا۔ خاص طور پر امیجن نیپال کی ٹیم نے 100 فیصد کامیابی حاصل کی، جبکہ رومانیہ کی ماریا الیگزینڈرا ڈانیلا اس چوٹی پر پہنچنے والی اپنے ملک کی پہلی کوہ پیما بنیں۔ چین کے دیلی شیاٹی ایلیکوتی سب سے کم عمر کوہ پیما قرار پائے جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دیا۔
نیپال کے منگما جی کی قیادت میں یہ مہم 5 اگست کو بیس کیمپ سے شروع ہوئی اور 11 اگست کو اختتام پذیر ہوئی۔ ٹیموں نے شدید برف باری، تیز ہواؤں اور رسیاں باندھنے جیسے مشکل مراحل عبور کیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کوہ پیما
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔