WE News:
2026-07-24@02:46:59 GMT

نان ہوسٹ اے ٹی ایم: ہر ٹرانزیکشن پر کتنے روپے کاٹے جائیں گے؟

اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT

نان ہوسٹ اے ٹی ایم: ہر ٹرانزیکشن پر کتنے روپے کاٹے جائیں گے؟

ملک کے تمام کمرشل بینکوں نے نان ہوسٹ اے ٹی ایم (یعنی جس اے ٹی ایم سے رقم نکلوائی جا رہی ہے وہ کسٹمر کے اپنے بینک کا نہ ہو) سے رقم نکلوانے کی فیس میں اضافہ کردیا ہے۔ یہ فیس 23.44 روپے سے بڑھا کر 35 روپے فی ٹرانزیکشن مقرر کردی گئی ہے۔

اس نئے سسٹم کے تحت 28 روپے اے ٹی ایم چلانے والے بینک کے حصے میں آئیں گے جبکہ 7 روپے انٹر بینک اے ٹی ایم نیٹ ورک ون لنک (1LINK) کو ملیں گے۔ بینکوں کے مطابق یہ اضافہ بڑھتی ہوئی آپریشنل لاگت اور سروسنگ اخراجات کی وجہ سے کیا گیا ہے، تاہم صارفین کی ایک بڑی تعداد اسے عام شہریوں کے لیے اضافی مالی بوجھ قرار دے رہی ہے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیشی کریڈٹ کارڈ صارفین کے بھارت میں ٹرانزیکشنز میں بڑی کمی، وجہ کیا ہے؟

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اس سے قبل نان ہوسٹ اے ٹی ایم سے رقم نکالنے پر صارفین سے 23.

44 روپے وصول کیے جاتے تھے۔ یہ فیس برسوں سے لاگو تھی اور زیادہ تر بینکوں نے اسے ہی اپنایا ہوا تھا۔ اب اچانک بڑھ کر 35 روپے تک پہنچ جانا ایک نمایاں اضافہ ہے جو خاص طور پر کم آمدنی والے صارفین کو متاثر کرے گا۔

دوسری جانب بعض بینکوں نے مخصوص اکاؤنٹس کے صارفین کو رعایت بھی فراہم کی ہے۔ حبِیب بینک لمیٹڈ نے اپنی تازہ ترین شیڈول آف بینک چارجز (SOBC) میں واضح کیا ہے کہ اگر صارفین کے پاس ایچ بی ایل فریڈم اکاؤنٹ یا ایچ بی ایل ورک اکاؤنٹ ہے اور وہ کم از کم 40 ہزار روپے ماہانہ اوسط بیلنس برقرار رکھتے ہیں تو ان کے لیے نان ہوسٹ اے ٹی ایم ٹرانزیکشن بالکل مفت ہوں گے۔ یہ سہولت جولائی تا دسمبر 2025 کے عرصے کے لیے فراہم کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:ایف بی آر اب بینکنگ ٹرانزیکشن کے ذریعے ٹیکس چوروں کو کیسے پکڑے گا؟

ایک نجی کمپنی میں 45 ہزار روپے پر ملازمت کرنے والے محمد اشفاق کہتے ہیں کہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کے ارد گرد آپ کے اکاؤنٹ کا اے ٹی ایم موجود نہیں ہوتا یا ہو بھی تو قدرے دور ہوتا ہے۔ ایسے میں چارجز کا بڑھ جانا ہم جیسے افراد کی آمدنی پر اضافی بوجھ ہے۔

ہماری تنخواہیں پہلے ہی محدود ہیں، اوپر سے ہر چھوٹی بڑی ٹرانزیکشن پر چارجز بڑھا دیے جاتے ہیں۔ 35 روپے فی ٹرانزیکشن کم آمدنی والے طبقے کے لیے بڑا بوجھ ہے۔ لوگ اب مجبور ہوں گے کہ یا تو اپنے ہی بینک کے اے ٹی ایم تلاش کریں یا پھر رقم نکالنے کی فریکوئنسی کم کریں۔ حالانکہ کبھی کوئی ایمرجنسی بھی ہوجاتی ہے لیکن کیا کہہ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز بیگز میں ہوتی ہیں، چیف جسٹس

ماہرین کا کہنا ہے کہ اے ٹی ایم فیس میں یہ اضافہ صارفین کے لیے مشکلات میں اضافے کا باعث بنے گا اور لوگ اب زیادہ تر کوشش کریں گے کہ وہ صرف اپنے ہی بینک کے اے ٹی ایم سے رقم نکلوائیں تاکہ اضافی چارجز سے بچ سکیں۔

ماہر معیشت راجا کامران کے مطابق یہ فیصلہ کم آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے نہایت مشکل ہے۔ یہ فیصلہ بظاہر آپریشنل لاگت کے حوالے سے درست لگتا ہے، لیکن پاکستان جیسے ملک میں جہاں مالی شمولیت (Financial Inclusion) ابھی ترقی کے مراحل میں ہے، ایسے اضافے عام شہریوں کو بینکاری نظام سے دور کر سکتے ہیں۔ بہتر ہوتا کہ بینک اس اضافے کو بتدریج نافذ کرتے یا کم آمدنی والے صارفین کو خصوصی ریلیف دیتے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹرانزیکشن کمرشل بینک نان ہوسٹ اے ٹی ایم

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ٹرانزیکشن نان ہوسٹ اے ٹی ایم نان ہوسٹ اے ٹی ایم کے لیے

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ