کراچی، فائرنگ کے مختلف واقعات میں ایک نوجوان جاں بحق، دو زخمی
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
کراچی:
لیاری اور سہراب گوٹھ میں فائرنگ کے واقعے میں ایک نوجوان جاں بحق اور دو افراد زخمی ہوگئے۔
کلری کے علاقے لیاری آگرہ تاج کالونی غازی مسجد کے قریب فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا ، جاں بحق ہونے والے شخص کی لاش ایدھی ایمبولینس کے ذریعے سول اسپتال منتقل کی گئی۔
پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت 18 سالہ محمد طلحہٰ ولد محمد طارق کے نام سے کی گئی ، فائرنگ کا واقعہ گھر کے قریب جھگڑے کے دوران پیش آیا ، صدام نامی ملزم نے سر پر گولی ماری اور فرار ہوگیا۔
علاقہ پولیس واقعے کی تحقیقات اور ملزم کی گرفتار کے لیے چھاپے مار رہی ہے ، سہراب گوٹھ کے علاقے مچھرکالونی میں فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا ، زخمی ہونے والے شخْس کو طبی امداد کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔
ترجمان کراچی پولیس کے مطابق زخمی ہونے والے شخص کی شناخت 32 سالہ لال محمد ولد بابا میر کے نام سے کی گئی ، فائرنگ کا واقعے زاتی رنجش کا شاخسانہ ہے ، علاقہ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
بغدادی کے علاقے لیاری یوسفی مسجد کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا ، زخمی ہونے والے شخص کو طبی امداد کے لیے سول اسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس کے مطابق زخمی ہونے والے شخص کی شناخت 19 سالہ عبداللہ ولد عرفان کے نام سے کی گئی ، زخمی ہونے والے شخص کی کمر پر ایک گولی لگی ہے ، حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے ، علاقہ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: زخمی ہونے والے شخص ہونے والے شخص کی کی گئی
پڑھیں:
خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کیلئے خوف و ہراس پھیل گیا، لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ اسلام ٹائمز۔ پٹنہ کے کدم کنواں تھانہ علاقے میں کل دیر رات افراتفری مچ گئی، جب کچھ شرپسند عناصر معروف استاد خان سر کے کوچنگ سینٹر میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ اور لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کی۔ واقعے میں کوچنگ سینٹر میں موجود کئی سامان کو نقصان پہنچا جب کہ وہاں تعینات ایک گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔ سر میں چوٹ لگنے کے بعد اسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پٹنہ پولیس حرکت میں آگئی۔ پٹنہ کے ایس ایس پی، کدم کنواں پولس اسٹیشن اور دیگر پولیس افسران کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور معاملے کی جانچ شروع کی۔ پولیس کی ٹیمیں رات گئے تک جائے وقوعہ پر موجود رہیں اور عہدیدارون کی جانب سے شواہد اکٹھے کئے گئے۔
واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے خان سر نے الزام لگایا کہ حال ہی میں ان کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے ہزاروں طلباء کو بہار پولیس بھرتی امتحان میں منتخب کیا گیا تھا، جس نے کچھ کمپٹیشن کرنے والے کوچنگ اداروں کو پریشان کر دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں، جس کے نتیجے میں حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ خان سر نے کہا کہ یہ لوگ پوچھ رہے ہیں، ہم اتنی کم فیس پر کیوں پڑھا رہے ہیں، ہمیں اتنے اچھے نتائج کیوں مل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہزاروں طلباء کے نتائج آتے ہیں تو کچھ سماج دشمن عناصر کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کے لئے خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پٹنہ کے ایس ایس پی کارتکیہ کے شرما نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کچھ طلباء نے کوچنگ سینٹر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ واقعے میں ایک گارڈ زخمی ہوا، اس کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔