بھارتی ریاست بہار کے شہر بھاگلپور کی ووٹر لسٹ میں ایک پاکستانی خاتون کا نام شامل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
بھارتی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ پاکستانی خاتون مبینہ طور پر تقریباً سات دہائیاں قبل انڈیا میں داخل ہوئی تھیں اور اب بھاگلپور میں جاری خصوصی جامع نظرثانی کے دوران انتخابی فہرست کے مسودے میں ان کا نام پایا گیا  ۔
اب اس معاملے میں سرکاری تحقیقات جاری ہیں اور ان کا نام ووٹر لسٹ سے نکالنے کے اقدامات شروع کیے گئے ہیں۔

یہ معاملہ وزارت داخلہ کی جانب سے بھارت میں ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی مقیم غیرملکی شہریوں کی شناخت کے لیے شروع کی گئی تصدیقی مہم کے دوران سامنے آیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ نہ صرف ان خاتون کا نام ریاست کی ووٹر لسٹ میں شامل تھا بلکہ خصوصی نظرثانی کے عمل کے دوران اس کی تصدیق بھی کی گئی تھی۔
فہرست کی تصدیق کے معاملے سے منسلک بُوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) نے بتایا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے رسمی مراسلت کے نتیجے میں 11 اگست کو ان خاتون کا نام الیکشن ڈیپارٹمنٹ نے نوٹیفائی کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ’مجھے الیکشن ڈیپارٹمنٹ سے ایک خط موصول ہوا جس میں ان خاتون کے پاسپورٹ اور ویزا کی تفصیلات تھیں جس سے ان کے پاکستانی شہری ہونے کی تصدیق ہوئی۔ انہیں 1956 میں رنگ پور مں پاسپورٹ جاری کیا گیا تھا اور ان کے ویزے پر 1958 درج ہے۔
بی ایل او نے مزید بتایا کہ ’تصدیقی عمل کے دوران پتا چلا کہ خاتون کی صحت کافی خراب ہے اور وہ اس عمل سے لیے ضروری بات چیت کا حصہ نہیں بن سکتیں۔ ان کا نام فہرست سے نکالنے کے لیےباقاعدہ کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
بھاگلپور کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ڈاکٹر نوال کشور نے بھی تصدیق کی ہے کہ ’فارم 7 جمع کروا کے ان کا نام فہرست سے حذف کرنے کی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس معاملے کا پس منظر جاننے کے لیے مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔
بہار اسمبلی کے انتخابات سے قبل جولائی میں ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کا عمل شروع کیا گیا تھا جس کے تحت فارم تقسیم کیے گئے تھے۔
الیکشن کمشن آف انڈیا کے مطابق سات کروڑ 89 لاکھ میں سے سات کروڑ 24 لاکھ فارم ادارے کو واپس موصول ہو چکے ہیں۔

Post Views: 27.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی

فائل فوٹو

ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن نےلاہور میں بلدیاتی الیکشن کی نئی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی ہے، جن میں 159 یونین کونسلز کا اضافہ کیا گیا ہے۔

صوبائی دارالحکومت میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں، 2015 کے بلدیاتی الیکشن میں لاہور میں 274 یونین کونسلز تھیں۔

ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن لاہور کی ابتدائی فہرست کے مطابق راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسل قائم کی گئی ہیں۔

ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40 اور صدر کینٹ میں 29، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونین کونسل بنائی گئی ہیں۔

لاہور کے شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائر کرسکتے ہیں، حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10 اگست کو جاری ہوگی۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار