کراچی، نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
کراچی:
ملیر کے علاقے پیپری میں نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید ہوگئے جبکہ وزیر داخلہ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ملیر سے تفصیلات طلب کرلیں۔
وزیرداخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار نے کہا کہ فی الفور پولیس ٹیموں کو متحرک کیا جائے اور جائے وقوع کو ہر طرح سے محفوظ کیا جائے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ جائے وقوع سے شواہد انتہائی باریک بینی سے اکٹھے کیے جائیں، آپریشن اور انوسٹی گیشن پولیس باہم اشتراک سے تفتیش اور تحقیقات کے عمل کو کامیاب بنائیں۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ ایس ایس پی ملیر اپنی ٹیم کے ہمراہ شہید ایلکار کے گھر جائیں اور ورثا سے اظہار تعزیت اور یکجہتی کریں۔
ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام تر اقدامات یقینی بنائے جائیں اور ابتدائی پولیس تفتیش اور پیش رفت سے آگاہ رکھا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔