فرحان سعید اور کنزا ہاشمی کی نئی جوڑی کو ناظرین نے مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
پاکستانی اداکار فرحان سعید اور کنزا ہاشمی کی آنے والی رومانٹک کامیڈی فلم ’’لڈو‘‘ کے اعلان پر ناظرین نے سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ستارے حال ہی میں ڈرامہ ’شیریں فرہاد‘ میں ایک ساتھ نظر آئے تھے جو باکس آفس پر ناکام ثابت ہوا تھا۔
فرحان سعید، جو اپنے کیرئیر میں ’اُڈاری‘، ’میرے ہمسفر‘ اور ’سنو چندا‘ جیسے ہٹ ڈراموں سے لوگوں کے دلوں پر راج کرتے رہے ہیں، ان دنوں اپنی بہترین کارکردگی نہیں دے پارہے۔ ان کے مداح ان کے نئے منصوبوں کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔
دوسری جانب کنزا ہاشمی اپنے منفرد کرداروں اور پرکشش شخصیت کی وجہ سے مقبول ہیں۔ انہوں نے ’خوشبو میں بسے خط‘ اور ’شیریں فرہاد‘ جیسے ڈراموں میں اپنے فن کا جادو جگایا ہے۔
نئی فلم ’لڈو‘ علی معین اور ابو علیحہ کی تحریر اور ابو علیحہ کی ہدایتکاری میں بن رہی ہے، جس میں کراچی کے حقیقی پس منظر کو پیش کیا جائے گا۔ تاہم ناظرین اس جوڑی کو دوبارہ ایک ساتھ دیکھنے پر تیار نہیں۔
سوشل میڈیا پر مداحوں کا کہنا ہے کہ ’’ایک اور فلاپ فلم‘‘، ’’ناکام ڈرامے کے بعد پھر کنزا ہاشمی کے ساتھ کیوں؟‘‘ اور ’’دوستی کے لیے نہیں، اچھے کام کے لیے کسی اور کے ساتھ کام کریں‘‘۔
یہ واضح ہے کہ ناظرین فرحان سعید سے کسی نئی ہیروئن کے ساتھ کام کرنے کے خواہاں ہیں، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ کنزا ہاشمی کے ساتھ ان کی کیمسٹری کام نہیں کر رہی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ’لڈو‘ فلم ان تاثرات کو بدل پاتی ہے یا نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کنزا ہاشمی کے ساتھ
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔