نئی دہلی (شوبز ڈیسک) بھارت کی تامل اور ملیالم فلموں کی معروف اداکارہ لکشمی مینن کو ریاست کیرالہ کے شہر کوچی میں ایک آئی ٹی پروفیشنل کے اغواء اور تشدد کے مقدمے میں بطور مرکزی ملزمہ نامزد کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف انڈین فلم انڈسٹری میں ہلچل پیدا کر رہا ہے بلکہ سوشل میڈیا پر بھی شدید بحث جاری ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ چند روز قبل بانر جی روڈ پر واقع ایک بار میں شروع ہوا جہاں اداکارہ کے قریبی دوستوں اور متاثرہ آئی ٹی پروفیشنل کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ جھگڑا اس وقت مزید بڑھ گیا جب متاثرہ نوجوان بار سے نکل کر اپنی گاڑی میں گھر کی طرف جا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق نارتھ برج کے قریب اس کی گاڑی کو روکا گیا اور ملزمان نے اسے زبردستی ایک دوسری گاڑی میں بٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا، جہاں اس پر مبینہ طور پر تشدد کیا گیا۔

شمالی پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس واقعے میں اب تک تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں لکشمی مینن کا ایک قریبی دوست بھی شامل ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

اس واقعے نے نیا رخ اس وقت اختیار کیا جب سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز سامنے آئیں۔ ان ویڈیوز میں لکشمی مینن کو براہ راست متاثرہ نوجوان کی گاڑی روک کر بحث و تکرار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیوز کے منظرعام پر آنے کے بعد عوامی ردعمل شدید ہو گیا اور پولیس پر دباؤ بڑھا کہ اداکارہ کو بھی باضابطہ طور پر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

لکشمی مینن جنوبی بھارت کی مشہور اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں۔ انہوں نے متعدد کامیاب تامل اور ملیالم فلموں میں مرکزی کردار ادا کیے اور شوبز میں اپنی الگ پہچان بنائی۔ لیکن موجودہ مقدمہ ان کے کیریئر کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان پر الزامات ثابت ہوئے تو وہ نہ صرف قانونی مشکلات کا شکار ہوں گی بلکہ ان کا فلمی کیریئر بھی شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

فلمی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ بھارتی شوبز انڈسٹری میں ایسے واقعات اکثر اداکاروں کی ساکھ پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی مداحوں کی بڑی تعداد نے اداکارہ پر تنقید کی ہے اور ان سے وضاحت طلب کی ہے۔ دوسری جانب لکشمی مینن کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ بے قصور ہیں اور غلط وقت پر غلط جگہ موجود ہونے کی وجہ سے معاملے میں پھنس گئی ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ پولیس تفتیش کے بعد کیس کس رخ اختیار کرتا ہے۔ فی الحال عدالت نے مقدمے کی کارروائی تیز کرنے اور مزید شواہد اکٹھے کرنے کی ہدایت دی ہے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ لکشمی مینن

پڑھیں:

راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار

— فائل فوٹو

راولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔

راولپنڈی: دورانِ ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین، بیوی ہی قاتل نکلی

راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔

پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔

جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں