اردو یونیورسٹی کی سینیٹ کا اجلاس ڈیڑھ سال بعد طلب، 235 اساتذہ کے مستقبل کا فیصلہ متوقع
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
کراچی:
وفاقی اردو یونیورسٹی کے سب سے بااختیار ادارے سینیٹ کا ایک غیر معمولی اجلاس یونیورسٹی کے چانسلر اور صدر مملکت آصف علی زرداری کی منظوری سے ڈیڑھ سال بعد طلب کر لیا گیا ہے یہ اجلاس موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کے تقریبا ڈیڑھ سالہ دور میں پہلی بار منعقد ہو رہا ہے۔
اردو یونیورسٹی کی سینٹ کا 51واں اجلاس ڈپٹی چیئر سینٹ ڈاکٹر جمیل احمد کی سربراہی میں جمعرات 3 ستمبر کو کراچی کے گلشن اقبال سائنس کیمپس میں بلایا گیا ہے، اجلاس کئی حوالوں سے اہم ہے لیکن اجلاس کے ایجنڈے کے اہم ترین نکات میں 2013 اور 2017 کے 235 اساتذہ کے سلیکشن بورڈز کی رپورٹ اور وائس چانسلر کی تنخواہ کی منظوری کے معاملے کو شامل کیا گیا ہے۔
وائس چانسلر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کی تقرری کے بعد ہونے والے اس پہلے اجلاس میں وائس چانسلر کی تنخواہ کے تعین کا معاملہ زیر بحث آئے گا تاہم غور طلب بات یہ ہے کہ وفاقی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تنخواہ کا تعین یونیورسٹی چانسلر ( صدر مملکت) کرتے ہیں لیکن تنخواہ کے تعین کا معاملہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہونے سے سینیٹ کے اراکین کے مابین یہ بات بحث کا عنوان بنی ہوئی ہے کہ وائس چانسلر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری گزشتہ 18 مہینوں سے کس مجاز اتھارٹی کی منظوری سے تنخواہ لے رہے ہیں۔
علاوہ ازیں سینٹ کا یہ 51واں اجلاس یونیورسٹی کے ان 235 اساتذہ کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہے جن کو سلیکشن بورڈ 2013 اور 2017 منعقدہ 2021 کی سفارشات پر سینٹ کے 48 ویں اجلاس کی دوسری نشست منعقدہ 18 جون 2022 سے منظوری کے بعد تقرر نامے جاری کیے گئے تھے۔
مذکورہ سلیکشن بورڈ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر روبینہ مشتاق کے دور میں ہوئے تھے جبکہ تقرری کے خطوط سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اظہر عطا کے دور میں اور تنخواہیں ڈاکٹر ضیا الدین کے دور میں جاری ہوئی تھیں تاہم ایچ ای سی کی جانب سے سابق چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد نے اس سلیکشن بورڈ کی اسکروٹنی سمیت مکمل پروسیڈنگ پر اعتراضات لگا دیے تھے۔
جس کے بعد ایک کمیٹی جامعہ کراچی کے ایچ ای جے انسٹی ٹیوٹ کے موجودہ ڈائریکٹر ڈاکٹر رضا شاہ کی سربراہی میں قائم کی گئی، کمیٹی میں دیوان یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اورنگزیب اور بیرسٹر شاہدہ جمیل شامل تھیں۔
بتایا جارہا ہے کہ کمیٹی کی رپورٹ اساتذہ کے تدریسی مستقبل کو سپورٹ نہیں کررہی ہے اور اگر یہ اساتذہ کسی ممکنہ منفی رپورٹ کی صورت میں فارغ ہوتے ہیں تو کم و بیش 100 کے قریب اساتذہ بے روزگار جبکہ اس سے زائد اپنی گزشتہ اسامیوں لیکچرر اور اسسٹنٹ پروفیسر پر چلے جائیں گے جو ان کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔
بیشتر اساتذہ مختلف اداروں سے اپنی ملازمت چھوڑ کر اردو یونیورسٹی آئے تھے ان اساتذہ کے تقرر کو 3 سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور وہ اپنی آزمائشی مدت بھی مکمل کر چکے ہیں۔
علاوہ ازیں سینیٹ کے اجلاس میں عدالتی حکم پر مستقل رجسٹرار، ٹریژرار اور ناظم امتحانات کے سلیکشن بورڈ کی سفارشات بھی پیش کی جائیں گی اور غیر تدریسی ملازمین کی سینیٹ کے بجائے سنڈیکیٹ سے ٹائم پے اسکیل کی بنیاد پر کی گئی ترقی کا معامله بھی زیر غور آئے گا۔
سینیٹ کے گزشتہ اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ اردو یونیورسٹی کے تمام ملازمین (اساتذہ و غیر تدریسی ملازمین) کی سروس ہسٹری بنا کر سینیٹ میں پیش کی جائے گی جس پر سینیٹ ٹائم پے اسکیل سے تحت ترقیوں کا فیصلہ کرے گی لیکن سینیٹ کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف غیر تدریسی ملازمین کے ٹائم پے اسکیل کی فہرست سینڈیکٹ سے منظور کرواکر غیر تدریسی ملازمین کو تعلیمی قابلیت مد نظر رکھے بغیر گریڈ 17 اور بالا میں ترقی دے دی حالانکہ 17 اور بالا میں ترقی کا استحقاق صرف سینیٹ کو حاصل ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان غیر تدریسی ملازمین وائس چانسلر ڈاکٹر اردو یونیورسٹی یونیورسٹی کے سلیکشن بورڈ اساتذہ کے سینیٹ کے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔
اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ