ترک وزیرِ خارجہ حکان فیدان نے جمعے کے روز پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال پر نہایت سخت اور دوٹوک مؤقف پیش کیا۔

اپنے خطاب میں ترک وزیر خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ ترکیہ نے اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات ختم کر دیے ہیں۔ ترک بحری جہازوں کو اسرائیلی بندرگاہوں پر جانے کی اجازت نہیں ہے اور ترک فضائی حدود اسرائیلی طیاروں کے لیے بند کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: برطانیہ نے لندن میں منعقدہ اسلحہ نمائش میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی عائد کردی

انہوں نے کہا کہ اسرائیل گزشتہ 2 برس سے غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے اور بنیادی انسانی اقدار کو دنیا کی آنکھوں کے سامنے پامال کر رہا ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں ہونے والے مظالم انسانی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شمار ہوں گے۔

حکان فیدان نے خبردار کیا کہ اسرائیل کو بے لگام حملے جاری رکھنے کی اجازت دینا نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ پورے خطے کو آگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کی مزاحمت تاریخ کا دھارا بدلنے کی طاقت رکھتی ہے، یہ مظلوموں کے لیے ایک علامت بنے گی اور موجودہ بوسیدہ عالمی نظام کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گی۔

یہ بھی پڑھیے: سلووینیا اسرائیل کے ساتھ اسلحہ کی تجارت پر پابندی لگانے والا پہلا یورپی ملک بن گیا

ترک وزیرِ خارجہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ ترکی کسی بھی ایسے منصوبے کو قبول نہیں کرے گا جس کا مقصد فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرنا ہو۔ انہوں نے شام کے حوالے سے بھی کہا کہ ترکی کسی کو شام کی قدیم اور قیمتی کمیونٹیز کو مسخ شدہ عزائم کے لیے استعمال کرنے یا اس کی علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے اسرائیل کے غزہ، لبنان، یمن، شام اور ایران پر حملوں کو ’دہشت گرد ریاست‘ کی ذہنیت قرار دیا اور کہا کہ یہ رویہ عالمی نظام کے خلاف کھلی بغاوت ہے۔ حکان فیدان کا یہ خطاب خطے کی صورتحال کے تناظر میں ترکی کے سخت اور واضح مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل ایئر اسپیس پابندی تجارت ترکیہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل ایئر اسپیس پابندی ترکیہ انہوں نے کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام

واشنگٹن:

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

https://t.co/Wtbk84dEsc

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026

سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم