ترکی کی خاتونِ اول نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے عالمی امداد کی اپیل کردی
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
ترکی کی خاتونِ اول امینہ اردوان نے پاکستان میں تباہ کن سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری امداد کی اپیل کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ وہ 2010 میں پاکستان کے دورے کے دوران سیلاب متاثرہ خاندانوں کے دکھ درد کی عینی شاہد رہی ہیں اور اس وقت ترکی نے سب سے پہلے پاکستان کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی ترک عوام کی دعائیں اور ہر ممکن تعاون پاکستان کے ساتھ ہے۔ ترک ریڈ کریسنٹ (کزلے) متاثرہ علاقوں میں صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ہنگامی امداد جیسے صحت کی سہولیات، پناہ گاہیں، خوراک اور پانی کی فراہمی کے اقدامات کررہا ہے۔
امینہ اردوان نے جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی، ساتھ ہی دنیا بھر کے ممالک سے اپیل کی کہ وہ مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں۔
دوسری جانب، ترک صدر رجب طیب اردوان نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک گفتگو میں جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ترکیہ کی اس ہمدردی اور تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کے
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز