تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس سے قبل شی جن پنگ اور نریندر مودی کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
چین کے صدر شی جن پنگ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے تیانجن شہر میں دو طرفہ ملاقات کی۔
یہ ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس سے قبل ہوئی جو آج اور کل (31 اگست اور یکم ستمبر) تیانجن میں منعقد ہو رہا ہے۔
بھارتی وزیراعظم مودی سات سال بعد چین کے دورے پر ہیں۔ اجلاس میں 20 سے زائد عالمی رہنما شریک ہیں جن میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر اہم رہنما بھی شامل ہیں۔
چین اور بھارت کے تعلقات 2020 کی سرحدی جھڑپ کے بعد سرد مہری کا شکار رہے، تاہم گزشتہ سال قازان میں ہونے والی ملاقات کے بعد تعلقات میں بہتری کی امید پیدا ہوئی۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف بھی اپنے وفد کے ہمراہ اجلاس میں شریک ہیں۔ دفترِ خارجہ کے مطابق وہ صدر شی جن پنگ اور چینی وزیراعظم لی کیانگ سے ملاقات کریں گے جس میں پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بات ہوگی۔
ایس سی او اجلاس میں چین، بھارت، روس، پاکستان، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور بیلاروس شامل ہیں جبکہ 16 ممالک مبصر یا ڈائیلاگ پارٹنرز کے طور پر شریک ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔