صدارتی آفس یا ارب پتی کا بیڈ روم؟ اوول آفس میں سنہرے رنگ کی بہتات پر ٹرمپ تنقید کی زد میں
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
رئیل اسٹیٹ ڈویلپر اور ہوٹل بزنس سے سیاست میں آنے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے محض 7 ماہ میں نہ صرف امریکی پالیسیوں پر گہرا اثر ڈالا بلکہ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس کو بھی اپنی پسند کے مطابق ڈھال دیا ہے۔
ٹرمپ نے کمرے کی سجاوٹ میں اپنی مخصوص ‘سنہری چھاپ’ شامل کی۔ چھتوں اور دروازوں کے فریموں سے لے کر فائر پلیس تک سونے کے رنگ کے تراشے نمایاں ہیں۔ حتیٰ کہ دروازوں میں بنی ہوئی فرشتوں کی شبیہیں بھی سنہری کر دی گئیں۔ مزید برآں سنہری کوسٹرز پر ٹرمپ کا نام کندہ ہے اور ان کے مطابق یہ تمام اخراجات انہوں نے اپنی جیب سے برداشت کیے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی سیکرٹ سروس نے وائٹ ہاؤس کے قریب مسلح شخص کو گولی مار دی
اوول آفس کی دیواروں پر اب تقریباً 20 سابق صدور کی تصاویر لگی ہیں جب کہ جو بائیڈن کے دور میں یہ تعداد 6 اور اوباما کے دور میں صرف 2 تھی۔ اس کے علاوہ ٹرمپ خاندان کی تصاویر، آزادی کے اعلامیے کی نقل اور مختلف تحائف بھی کمرے کی زینت ہیں۔ ان میں فیفا کلب ورلڈ کپ ٹرافی بھی شامل ہے۔
پریس سیکریٹری کے مطابق یہ ‘سنہری دور کے لیے سنہری دفتر’ ہے تاہم بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اوول آفس میں سنہرے رنگ کی یہ بہتات امریکی صدر کی دولت اور پیسے سے حد سے بڑھ کر دلچسپی کا عکاس ہے۔
ناقدین اب اوول آفس کو امریکی صدر کے دفتر سے زیادہ ایک ارب پتی کے بیڈ روم سے تشبیہ دے رہے ہیں اور بعض کے نزدیک امریکی صدارتی دفتر میں اب سنجیدگی سے زیادہ ایک ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کی پرتعیش زندگی اور دولت کی ریل پیل نظر آرہی ہے۔
واضح رہے کہ ہر امریکی صدر اپنے ذوق کے مطابق اوول آفس کی تبدیلی کرتا آیا ہے لیکن شاید ہی کسی نے اسے اس قدر سنہری رنگ میں ڈبویا ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اوول آفس ٹرمپ سنہری رنگ صدر وائٹ ہاوس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اوول آفس وائٹ ہاوس اوول آفس کے مطابق
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز