WE News:
2026-06-03@04:44:50 GMT

پنجاب: اسکولز کے طلبہ و طالبات کے لیے بڑی خوشخبری سامنے آگئی

اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT

پنجاب: اسکولز کے طلبہ و طالبات کے لیے بڑی خوشخبری سامنے آگئی

پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) نے اپنی تمام درسی کتب آن لائن مفت فراہم کر دی ہیں، تاکہ صوبے بھر کے طلبہ، اساتذہ اور والدین انہیں آسانی سے استعمال کر سکیں۔ اس اقدام کے تحت پہلی جماعت سے بارہویں جماعت تک کی اردو اور انگریزی میڈیم کی کتب اب مفت ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہیں۔

کتاب کیسے مفت ڈاؤن لوڈ کریں؟

تمام درسی کتب PCTB کے سرکاری پورٹل پر موجود ہیں۔ صارفین اپنی جماعت اور میڈیم منتخب کرکے مضامین کی کتابیں الگ الگ PDF فارمیٹ میں ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ پلیٹ فارم پر اردو، انگلش، ریاضی، جنرل سائنس، اسلامیات، سوشل اسٹڈیز، کمپیوٹر سائنس سمیت دیگر بنیادی مضامین کی کتب دستیاب ہیں۔

اضافی ذرائع

PCTB پورٹل کے ساتھ ساتھ مزید پلیٹ فارمز بھی طلبہ کی سہولت کے لیے موجود ہیں:

ای-لرن پنجاب (eLearn Punjab): یہ پلیٹ فارم درسی کتب کے انٹرایکٹو ورژن فراہم کرتا ہے جن میں ویڈیو لیسنز، اینیمیشنز اور سمیولیشنز شامل ہیں۔ اس کا زیادہ فوکس سائنس اور ریاضی کے مضامین پر ہے۔

یہ بھی پڑھیے وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہونہار طلبا و طالبات کو خوشخبری سنا دی

Ustad360 اور Taleem360: یہ تھرڈ پارٹی پلیٹ فارمز ہیں جو PCTB کتب کو منظم انداز میں کلاس اور مضمون کے حساب سے مرتب کرتے ہیں تاکہ صارفین تیزی سے PDF ڈاؤن لوڈ کر سکیں۔

اہم ہدایات

یہ درسی کتب صرف تعلیمی اور ذاتی استعمال کے لیے فراہم کی گئی ہیں۔

صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ درست اور تازہ ترین ورژن حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ سرکاری ویب سائٹ پر انحصار کریں۔

یہ بھی پڑھیے نوجوان گریجویٹس کے لیے خوشخبری، حکومت نے پیڈ انٹرن شپ پروگرام کا اعلان کردیا

اس اقدام سے یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ پنجاب کے تمام طلبہ، خصوصاً دور دراز علاقوں میں، بغیر کسی مالی رکاوٹ کے معیاری تعلیمی مواد تک رسائی حاصل کر سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پنجاب طلبہ و طالبات کے لیے خوشخبری.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: طلبہ و طالبات کے لیے خوشخبری درسی کتب ڈاؤن لوڈ کے لیے

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی