بنگلہ دیش میں بڑا کریک ڈاؤن: سابق وزیر سمیت 16 افراد سازش کے الزام میں گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
ڈھاکا: بنگلہ دیش میں حکومت کے خلاف مبینہ سازش کے الزام میں سابق وزیر سمیت 16 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار افراد کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ ان میں شیخ حسینہ واجد کی سابق کابینہ کے 87 سالہ رکن عبداللطیف صدیقی اور ڈھاکا یونیورسٹی کے پروفیسر حافظ الرحمٰن کرزون بھی شامل ہیں۔
یہ گرفتاریاں اس وقت ہوئیں جب تمام افراد ڈھاکا رپورٹرز یونٹی کے ایک اجلاس میں شریک تھے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اجلاس پر ایک ہجوم نے دھاوا بولا، شرکا کو ہراساں کیا اور بعدازاں پولیس کے حوالے کردیا۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ یہ گروپ حکومت گرانے اور ملک میں بدامنی پھیلانے کی سازش میں ملوث تھا۔ عدالت میں پیشی کے دوران پروفیسر حافظ الرحمٰن کرزون نے کہا کہ ہم مجرم نہیں بلکہ مظلوم ہیں۔
بنگلہ دیش میں 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سیاسی صورتحال مسلسل ہلچل کا شکار ہے اور آئندہ انتخابات سے قبل سیاسی کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں شرینہ کو بیٹوں سمیت گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق شیریں شرینہ ملزمہ کو دونوں بیٹوں کے ساتھ کامران چورنگی سے گرفتار کیا گیا، ملزمہ ہیروئن، چرس اور دیگر منشیات فروخت کرتی تھی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ چند سال قبل گرفتار ہوکر جیل گئی تھی اور دو سال پہلے واپس آئی تھی، ملزمہ شیریں عرف شیرینہ کے خلاف 35 کے قریب مقدمات درج ہیں، ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سےدستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔پولیس حکام کا بتانا ہے کہ ملزمہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے ڈائریکٹ ہیروئن سپلائی کرتی تھی، گرفتار ملزمہ اور ملزمان سے مذید تفتیش کی جارہی ہے۔