قصور، بارشوں کے دوران چھتیں گرنے سے 4 افراد جاں بحق، 7 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
قصور:
بارش کے دوران ہونے والے مختلف حادثات میں قصور کے مختلف علاقوں میں چھتیں گرنے سے کم از کم چار افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جن میں دو نوجوان لڑکے بھی شامل ہیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق قصور کے علاقے رنگ پور میں گھر کی چھت گرنے سے 50 سالہ منیر احمد موقع پر جاں بحق ہو گئے۔ شدید بارشوں کے باعث چھت کی ساخت کمزور ہو گئی تھی، جس سے یہ حادثہ پیش آیا۔
کنگن پور میں بھی ایک اور دلخراش حادثہ پیش آیا، جہاں ایک گھر کی چھت گرنے سے 16 سالہ عامر جاں بحق ہو گیا۔ ملبے تلے دب کر اس کی جان چلی گئی۔ اسی علاقے میں ایک اور المناک واقعہ پیش آیا، جس میں 50 سالہ ملک نیامت علی ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئے۔
قصور کے علاقے باقر کے میں کچے مکان کی چھت گرنے سے بارہ سالہ ذیشان ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گیا۔ یہ حادثہ شدید بارش کے دوران پیش آیا، جس کے باعث مکان کی چھت اپنی جگہ سے ہٹ گئی اور ذیشان اس کے نیچے آ گیا۔
ان حادثات میں بچوں اور خواتین سمیت سات افراد زخمی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور ڈاکٹروں کی ٹیمیں ان کی طبی امداد میں مصروف ہیں۔
ریسکیو اہلکاروں نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے ملبے سے افراد کو نکالا اور زخمیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ تاہم، شدید بارشوں کی وجہ سے علاقے میں مزید چھتیں گرنے کا خطرہ موجود ہے، جس کے باعث انتظامیہ نے ایمرجنسی اقدامات بڑھا دیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جاں بحق ہو پیش آیا کی چھت
پڑھیں:
مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں انٹیلیجنس بیسڈ مؤثر کارروائیاں جاری ہیں، مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے۔
سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران متعدد دہشتگرد گرفتار کیے گئے، گرفتار دہشتگردوں میں سہولتکار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں، کارروائی میں دہشتگردوں کےمتعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔
علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی برقرار ہے، دہشتگردوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود برآمد کرلیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز تیز کر دیے گئے، دہشت گردی کے خاتمے اور علاقے میں امن و امان کے قیام تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔