لاہور:

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایات پر پنجاب کو "باغوں کا صوبہ" بنایا جائے گا۔

ترجمان محکمہ ہاؤسنگ کے مطابق پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی ایکٹ 2025 کے تحت پہلے مرحلے میں 12 اضلاع میں ہارٹیکلچر ایجنسیاں قائم کی جائیں گی جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید اضلاع میں ہارٹیکلچر ایجنسیاں قائم کی جائیں گی، قوانین کے تحت تمام موجودہ ضلعی اتھارٹیاں ایجنسیوں میں تبدیل کردی گئی ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ منتخب 12 اضلاع میں ڈسٹرکٹ ٹرانزیشن ٹیمیں قائم کردی گئیں۔ 15 اکتوبر سے قبل میونسپل کارپوریشن کا متعلقہ عملہ اوروسائل پی ایچ اے کو منتقل کیے جائیں گے۔

ترجمان محکمہ ہاؤسنگ کا کہنا ہے کہ نئی تشکیل کردہ ہارٹیکلچر ایجنسیوں کے لیے افسران کا انتخاب سرچ کمیٹی کرے گی، ایم ڈی، ڈپٹی ایم ڈی، اور دیگر افسران بھی تعینات کیے جائیں گے۔

ترجمان نے کہا کہ پی ایچ اے کا دائرہ کار صوبائی سطح پر بڑھانے سے شہروں میں سبزا اور ہریالی بڑھے گی، نئے باغات کے قیام کے لیے جگہ مختص، موجودہ باغات کی حالت بہتر کی جائے گی۔ صوبوں میں گرین ایریاز بڑھانے سے ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے میں مدد ملے گی۔

ترجمان محکمہ ہاؤسنگ کے مطابق منتخب کردہ اضلاع میں شیخوپورہ، اوکاڑہ، گجرات، جہلم، خانیوال، ننکانہ،رحیم یار خان، مری، جھنگ، پاکپتن، خوشاب اور مظفر گڑھ شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اضلاع میں

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ