وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر سیلاب متاثرہ علاقوں میں ٹینٹ سٹی قائم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے بھر کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں متاثرین کے لیے ٹینٹ سٹی قائم کردیے گئے ہیں۔
تحصیل اٹھارہ ہزاری ضلع جھنگ میں فلڈ ریلیف کیمپ کے ساتھ ٹینٹ سٹی لگا دیا گیا ہے جہاں سیلاب متاثرین کے قیام و طعام کا شاندار انتظام کیا گیا ہے۔ علاج معالجے کے لئے ڈاکٹرز اور طبی عملہ بھی موجود ہے جبکہ متاثرین کو مفت ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیمپ میں عارضی ہیلی پیڈ بھی بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سندھ میں سیلاب کب داخل ہوگا، حکومت کی تیاریاں کیا ہیں؟
اسی طرح کوٹ خیرا اور گورنمنٹ ہائی اسکول احمد پور سیال میں بھی متاثرین کے لئے ٹینٹ سٹی قائم کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر فلڈ ریلیف کیمپوں میں خواتین اور بچوں کے لئے علیحدہ انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
پنجاب کے دریاؤں میں معمول سے زیادہ طغیانی کے باعث 32 اضلاع کے ہزاروں گاؤں زیر آب آگئے ہیں۔ صوبے بھر میں 3 ہزار 338 ریسکیورز 806 کشتیوں پر آپریشن میں مصروف ہیں۔ اب تک 9 لاکھ 18 ہزار سے زائد افراد کو سیلابی ریلوں کے آنے سے پہلے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 21 ہزار 620 افراد کا کامیاب انخلاء کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایات پر ریسکیو ٹیموں نے 6 لاکھ 11 ہزار سے زائد مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب ٹینٹ سٹی سیلاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹینٹ سٹی سیلاب ٹینٹ سٹی گیا ہے
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔