ٹک ٹاکر کو اغوا کی کوشش اور قتل کی دھمکی دینے والے نوجوان نے اعترافِ جرم کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کو اغوا کرنے اور قتل کی دھمکیاں دینے والے ملزم نے اعترافِ جرم کرلیا۔
رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کو مبینہ اغواء کرنے اور قتل کی دھمکیاں دینے کے مقدمے پر سماعت ہوئی۔
پولیس کیجانب سے گرفتار ملزم حسن زاہد کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ جج نے ملزم سے استفسار کیا کہ بتاؤ تم نے یہ دھمکیاں اور اغواء کیوں کیا؟
جس پر ملزم نے اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا کہ سر جی مجھ سے غلطی ہوگئی ہے۔
پولیس کیجانب سے ملزم کے 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی جس پر عدالت نے ملزم کو 5 دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کی جانب سے ویڈیو بیان جاری کیا گیا تھا جس میں اس نے ملزم کیخلاف ویڈیو بطور ثبوت دیتے ہوئے بتایا تھا کہ اسے بھی دوست ثنا یوسف کی طرح پریشان کیا جارہا ہے جس کو اس ہی طرح کے ایک نوجوان نے گھر میں گھس کر قتل کردیا تھا۔
ٹک ٹاکر نے بتایا کہ ملزم نے اسے اغوا کرنے کی کوشش کی جبکہ اسے قتل کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ ملزم کے خلاف تھانہ شالیمار میں مقدمہ درج کیا گیا جبکہ فوری ایکشن لیتے ہوئے اسے گرفتار بھی کرلیا گیا تھا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ٹک ٹاکر
پڑھیں:
کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
کراچی:ملیر 15 کے علاقے میں سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں تین ملزمان ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ بھتہ خوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد تین ملزمان مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔
فائرنگ ختم ہونے کے بعد ہلاک اور زخمی ملزمان کو ریسکیو کی ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت شاہ رخ، راحب اور علی حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد وسیم کے نام سے کی گئی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک اور گرفتار ملزمان بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں اور ملزمان کے ممکنہ ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔