ٹک ٹاکر سامعہ حجاب اغوا کیس، ملزم کی ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد عامر ضیا نے ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کے مبینہ اغوا کیس میں گرفتار ملزم حسن زاہد کی ایک مقدمے میں ضمانت 20 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرلی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سامعہ حجاب کا حسن زاہد سے کیا تعلق تھا؟ ٹک ٹاکر نے نئے انکشافات کردیے
سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ موکل بے گناہ ہے، مقدمہ ہراسانی اور بلیک میلنگ کے لیے درج کیا گیا ہے، اس لیے عدالت ضمانت منظور کرے۔ عدالت نے وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے ضمانت دے دی۔
تاہم ملزم حسن زاہد دوسرے مقدمے میں اب بھی پولیس کی تحویل میں ہے اور اس کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا جاچکا ہے۔ عدالت نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر 9 ستمبر کو مزید دلائل طلب کرلیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاکر سامعہ حجاب اغواء کیس، ملزم حسن زاہد نے عدالت میں جرم قبول کر لیا
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں ٹک ٹاکر سامعہ حجاب نے ایک ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی گئی جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج انہوں نے انسٹاگرام پر شیئر بھی کی تھی۔ سامعہ حجاب کے مطابق ملزم کئی دنوں سے انہیں ہراساں کررہا تھا اور شادی کی پیشکش بھی کرتا رہا ہے۔
ٹک ٹاکر نے یہ بھی کہا کہ اس سے قبل ان کی دوست ثنا یوسف کو بھی اسی نوعیت کے معاملے پر جان سے ہاتھ دھونا پڑا تھا، لہٰذا انہوں نے حکام اور پولیس سے اپیل کی ہے کہ ان کی جان کو لاحق خطرے کے پیش نظر فوری تحفظ فراہم کیا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اغوا کیس ٹک ٹاکر ٹک ٹاکر سامعہ حجاب حسن زاہد ضمانت منظور ملزم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اغوا کیس ٹک ٹاکر ٹک ٹاکر سامعہ حجاب حسن زاہد ٹک ٹاکر سامعہ حجاب حسن زاہد
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔