کیوی لیجنڈ راس ٹیلر کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
نیوزی لینڈ کے لیجنڈ اور آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فاتح راس ٹیلر انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے لیے تیار ہیں۔
تفصیلات کے مطابق راس ٹیلر عمان میں ہونے والے آئندہ ایشیا-ایسٹ ایشیا-پیسیفک ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کوالیفائر میں ساموا کی نمائندگی کریں گے۔
ٹیلر کو آج صبح ساموا کے نامزد اسکواڈ میں شامل کیا گیا۔
ٹیلر نے انسٹاگرام پر جاری پیغام میں کہا کہ اپنے ورثے، ثقافت، گاؤں اور خاندان کی نمائندگی کرنا میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔
Ross Taylor will be back, in new colours!
Samoa have announced a squad which includes the former New Zealand international for the T20 World Cup Asia-EAP qualifier ???????? pic.
واضح رہے کہ راس ٹیلر کی والدہ کا تعلق ساموا سے ہے جس کی بناء پر ان کے پاس ساموا کی شہریت بھی ہے اور اپریل 2022 میں نیوزی لینڈ کے لیے کھیلے گئے اپنے آخری میچ کے بعد تین سال کا اسٹینڈ آؤٹ پیریڈ مکمل ہونے پر وہ اپنی دوسری قومی ٹیم کی نمائندگی کے اہل ہوگئے ہیں۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے ٹیلر نے اپنے انٹرنیشنل کیریئر میں 18 ہزار سے زائد رنز بنائے ہیں جبکہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز میں 122.37 کے اسٹرائیک ریٹ سے 1909 رنز بنائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: راس ٹیلر
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔