Express News:
2026-06-03@02:04:58 GMT

اسرائیل سے کیسے نمٹا جائے!

اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT

مشرق وسطیٰ میں کاش کہ برطانیہ نے یہودیوں کو سر چھپانے کی جگہ فراہم نہ کی ہوتی تو آج جو المناک دہشت ناک اور خون آلودہ حالات فلسطین میں روز ہی رونما ہو رہے ہیں وہ نہ ہوتے مگر شاید یہ برطانیہ کی مجبوری تھی کہ اسے بے وطن اور پریشان حال یہودیوں کی مشکلات کو دور کرنے اور انھیں آباد ہونے کے لیے اپنی مفتوحہ سرزمین فلسطین کا ایک قطعہ فراہم کرنا پڑا۔

دنیا جانتی ہے کہ برطانیہ کو اس کے بدلے میں یہودیوں نے ان کے سب سے بڑے دشمن ہٹلر کو ہرانے کے لیے جاسوسی کا گھناؤنا جال پھیلایا تھا پھر اس کی پاداش میں یہودیوں کو اپنی نسل کشی جیسی آفت سے گزرنا پڑا تھا۔ شاید ہٹلر سے زیادہ یہودیوں کی نفسیات سے کوئی واقف نہیں تھا اس نے ان کی غداری کے صلے میں انھیں چن چن کر ہلاک کیا تھا۔ اس نے انھیں ہلاک کرنے کے لیے گولیوں کا استعمال نہیں کیا بلکہ بڑے بڑے گڑھے کھدوا کر ان میں یہودی مردوں، عورتوں اور بچوں کو ڈال دیا جاتا اور اوپر سے مٹی برابر کر دی جاتی۔ یہودیوں کے اس قتل عام کو ہولوکاسٹ کا نام دیا جاتا ہے۔

آخر ہٹلر نے چند بڑے رہنماؤں کے بجائے جرمنی میں آباد تمام یہودیوں کو درگور کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ وجہ یہ تھی کہ یہودی جرمنی کے شہری ہوتے ہوئے جرمنی سے غداری کے مرتکب ہوئے تھے۔ وہ جرمنی کے دشمنوں کو جو برطانیہ، فرانس، امریکا و دیگر ممالک تھے انھیں عین دوسری جنگ عظیم کے وقت جرمنی کی خفیہ خبریں پہنچا رہے تھے۔ اس طرح وہ جرمنی کو مشکلات کا شکار کر رہے تھے۔ مگر اب کیا یہودی ہولوکاسٹ کا بدلہ فلسطینیوں سے لے رہے ہیں تو فلسطینیوں نے تو یہودیوں پر کوئی ظلم نہیں ڈھایا اور نہ ہی وہ یہودیوں کے خلاف کسی سازش میں شامل رہے ہیں پھر ان کی آج کل نسل کشی کرکے وہ انھیں کس جرم کی سزا دے رہے ہیں۔

اسرائیل نے فلسطینیوں پر ظلم و بربریت کی انتہا کر دی ہے۔ اب تک اسی ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور ایک لاکھ سے اوپر زخمی ہو چکے ہیں۔ غزہ کا کوئی گھر ایسا نہیں ہے جہاں کا کوئی نہ کوئی فرد نیتن یاہو کی درندگی کا شکار نہ بنا ہو۔ مسلسل بمباری سے بے شمار گھر تباہ ہو چکے ہیں۔

ایک طرف بھیانک بمباری سے غزہ کی آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو دوسری جانب غذائی قلت پیدا کرکے فلسطینیوں کو دانستہ طور پر موت کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہے۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ پڑوسی ممالک اور انسانی خدمت کے اداروں کی طرف سے بھیجی جانے والی غذا کی ترسیل میں جان بوجھ کر رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ بمباری کے وقفوں کے دوران جو ناکافی غذا بھی فلسطینیوں تک پہنچ رہی ہے اس کی تقسیم کے مقام پر پہنچنے والے فلسطینیوں پر وحشیانہ بمباری کی جا رہی ہے چنانچہ غذا کے بجائے انھیں موت مل رہی ہے۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ وہاں موجود صحافیوں اور اقوام متحدہ کے امدادی اہلکاروں کو بھی نہیں بخشا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ بھی فلسطینیوں کے قتل عام کو روکنے کی درخواست کر رہی ہے مگر اس کی بھی کوئی نہیں سن رہا۔ امریکا جو حقوق انسانی کا چیمپئن خود کو کہتا ہے اس نے بھی چپ سادھ رکھی ہے یورپی ممالک اگرچہ اس قتل عام پر ناراض ہیں مگر یہ شاید دکھاوا ہی ہے۔ فلسطینی مسئلے کا واحد دیرپا حل فلسطینی ریاست کا قیام ہے مگر اس حل تک پہنچنا بہت مشکل معلوم ہوتا ہے کیونکہ اسرائیل اس کے خلاف ہے اور وہ شاید ہی آزاد فلسطینی ریاست کو قائم ہونے دے۔ امریکی صدر ٹرمپ کا یہ حال ہے کہ وہ کئی دفعہ کہہ چکے ہیں کہ فلسطینی غزہ کا علاقہ خالی کر دیں بس یہی تو نیتن یاہو بھی چاہتا ہے تاکہ وہ اسرائیل کی سرحدوں کو آگے وسعت دے سکے۔

فلسطینی بھی امریکی اور اسرائیلی سازش سے باخبر معلوم ہوتے ہیں جب ہی انھوں نے غزہ کو خالی کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ مر تو سکتے ہیں مگر اپنی جگہ نہیں چھوڑ سکتے۔ یہودیوں کے ظلم و ستم کوئی نئے نہیں ہیں وہ تو ماضی میں اپنے پیغمبروں کو بھی شہید کرتے رہے ہیں۔ وہ دولت کی لالچ میں کسی بھی برے کام کو کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ یہ انسان کش قوم ہے۔

یہ اپنے مفاد کے حصول کے لیے کسی بھی انسان کش کام کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ انسانوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکت کا سبب بننے والا ایٹم بم بھی انھی کی ایجاد ہے۔ انھوں نے ہی امریکا اور برطانیہ کو ایٹمی قوت بنایا ہے اور امریکا نے ان کے ہی بنائے ہوئے ایٹم بموں سے ہیروشیما اور ناگاساکی پر حملے کرکے ان شہروں کے لاکھوں شہریوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

امریکا اور برطانیہ آج بھی یہودیوں کے سب سے بڑے طرف دار ہیں اور ان کی دنیا میں واحد ریاست اسرائیل کے نگہبان ہیں۔ یہ تو حقیقت ہے کہ ایٹم بم کو ایجاد کرنے والا آئین اسٹائن تھا جو یہودی تھا اور یہ تاریخی حقیقت ہے کہ دنیا کے پہلے ایٹم بم کا بلیو پرنٹ 1940 میں برمنگھم برطانیہ میں دو یہودیوں نے تیار کیا تھا۔ انھوں نے ہی برطانیہ کو خبر دی تھی کہ ایک ایٹم بم ایک پورے شہر کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے دنوں میں جب جرمنی اور جاپان اتحادی افواج پر بھاری پڑ رہے تھے تو ایسے میں امریکا ان دونوں ممالک کو ایک بڑا سبق سکھانا چاہتا تھا کیوں کہ جس رفتار سے اس وقت جنگ چل رہی تھی اس سے امریکا نہ سہی مگر برطانیہ ضرور تباہی کے دہانے پر تھا۔ ایسے میں برطانیہ نے یہودی سائنس دانوں کا ایٹم بم کا بلیو پرنٹ امریکا کو مہیا کر دیا۔ امریکا میں اسی بلیو پرنٹ کے تحت وہاں موجود یہودی سائنس دانوں نے ایٹم بم تیار کیے اور پھر امریکا نے انھیں جاپان کے خلاف استعمال کر ڈالا۔ امریکا نے ایک نہیں دو ایٹم بم جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے۔ ان سے وہاں کے لاکھوں شہری موت کی نیند سو گئے اور درجنوں ہی شہر تباہ و برباد ہو کر کھنڈر بن گئے۔

امریکا نے جاپان پر ایٹم بم گرانے کی غلطی کی تھی مگر اس میں برطانیہ کا بھی عمل دخل شامل تھا۔ اسی طرح عربوں کی سرزمین پر یہودیوں کو بسانے میں امریکا ضرور پیش پیش تھا مگر یہودیوں کو آباد کرنے کے لیے برطانیہ نے اپنی مفتوحہ فلسطین کی سرزمین مہیا کی تھی جو اس نے سلطنت عثمانیہ کو پہلی جنگ عظیم میں شکست دے کر حاصل کی تھی۔ آج امریکا اور برطانیہ کی پشت پناہی کی وجہ سے اسرائیل کی ہمت اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ پورے مشرق وسطیٰ پر قبضہ جمانے کا پلان بنا چکا ہے۔

فلسطینیوں پر اسرائیل کے ظلم و ستم کو روکنے کے لیے امریکا اور برطانیہ سے کوئی امید لگانا عبث ہے اب تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کو سبق سکھانے کے لیے اپنی مصلحتوں سے باہر نکل کر عملی اقدام اٹھانا ہوں گے۔ جس طرح گزشتہ دنوں ایران اسرائیل کو جارحیت کا مزہ چکھا چکا ہے جس سے اسرائیل کی کمزوری سامنے آ چکی ہے، آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اگر مسلم ممالک اسرائیل کو مجبور کرنے کے لیے اس پر حملہ نہیں کرسکتے تو کم سے کم تمام سفارتی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات ہی منقطع کر لیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امریکا اور برطانیہ کرنے کے لیے یہودیوں کے یہودیوں کو امریکا نے ہے کہ وہ چکے ہیں رہے ہیں ایٹم بم رہی ہے

پڑھیں:

امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے

اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔

ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔

(جاری ہے)

جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔

قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔

آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔

ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔

جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔

وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔

تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔

یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔

سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔

دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔

ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔

7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔

آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان