امریکی ٹیرف سے بھارتی برآمدات کو دھچکا، نئی دہلی کا ریلیف پیکج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
بھارت نے ان برآمد کنندگان کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے جو امریکا کی جانب سے حالیہ اضافی ٹیرف سے متاثر ہوئے ہیں۔
بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے جن سے 50 فیصد تک کے محصولات سے متاثرہ برآمد کنندگان کو سہارا دیا جا سکے۔
امریکا نے گزشتہ ماہ بھارتی مصنوعات پر اضافی ڈیوٹی عائد کی تھی، جس میں روسی تیل کی خریداری کے تناظر میں 25 فیصد سزائی ٹیرف بھی شامل تھا۔
مزید پڑھیں: 50 فیصد ٹرمپ ٹیرف نافذ سے ہونے سے پہلے ہی بھارتی کاروباری طبقہ بدترین بحران سے دوچار
اس اضافے کے بعد ٹیکسٹائل، جواہرات، جوتے اور کیمیکلز جیسی کئی اشیا پر مجموعی طور پر 50 فیصد تک محصولات لاگو ہو گئے۔
بھارتی برآمد کنندگان کی تنظیم کے صدر ایس سی رالہان نے کہا کہ ٹیکسٹائل، زیورات اور سی فوڈ کے شعبے شدید متاثر ہوئے ہیں اور تمل ناڈو، نوئیڈا اور سورت کے صنعتی مراکز میں پیداوار بند کر دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ ٹیرف سے بچنے کے لیے ایپل نے 15 لاکھ آئی فون بھارت سے امریکا کیسے منگوائے؟
ان کے مطابق بھارتی برآمدات کی 55 فیصد مقدار، جو قریباً 48 ارب ڈالر ہے، امریکی منڈی میں ویتنام، چین اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں غیر مسابقتی ہو چکی ہے۔
سیتا رمن نے واضح کیا کہ بھارت روسی تیل کی خریداری جاری رکھے گا کیونکہ یہ معیشت کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں وہی خریدنا ہے جو ہمارے لیے نرخوں اور لاجسٹکس کے اعتبار سے بہتر ہو۔ چاہے وہ روسی تیل ہو یا کچھ اور، یہ فیصلہ بھارت کا ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی ٹیرف ٹرمپ ٹیرف دھچکا، ریلیف پیکج کا اعلان نئی دہلی ھارتی برآمدات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی ٹیرف ٹرمپ ٹیرف دھچکا ریلیف پیکج کا اعلان نئی دہلی ھارتی برآمدات کے لیے
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔