دریائے راوی نے پاک بھارت سرحدی تمیز مٹا دی، شدید طغیانی 30 کلومیٹر طویل بارڈر بہا لے گئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
پنجاب میں راوی دریا کے شدید سیلاب نے سرحدی علاقے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سیلابی پانی نے پاک بھارت بارڈر پر لگائی گئی تقریباً 30 کلومیٹر آہنی باڑ بہا لے گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت نے ستلج میں مزید سیلابی ریلا چھوڑ دیا، دریاؤں میں پانی کی سطح میں خطرناک اضافہ
اس کے علاوہ درجنوں چیک پوسٹس بھی خالی کرنی پڑیں اور گورداسپور، امرتسر اور پٹھان کوٹ میں کم از کم 50 مقامات پر حفاظتی بندھ ٹوٹ گئے۔
چیک پوسٹس زیرِ آب، اہلکار محفوظ مقامات پر منتقلبھارتی میڈیا کے مطابق بی ایس ایف کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل اے کے ودیارتی نے بتایا کہ گورداسپور میں 30 سے 40 بارڈر پوسٹس پانی میں ڈوب گئیں۔
Chamera (Power)Dam, NHPC LTD !!
The Chamera Dam is built on the Ravi River, located in the Chamba district of Himachal Pradesh, near Dalhousie.
Power Generation is done in 3 Stages.
• Chamera‑I (1994): Storage scheme with an installed capacity of 540 MW (3×180 MW).… pic.twitter.com/aihFfekoHu
— Naveen Reddy (@navin_ankampali) September 6, 2025
اس کے علاوہ کرتارپور کوریڈور کے قریب واقع مشہور بی ایس ایف پوسٹ بھی زیرِ آب آ گئی، جس کے بعد اہلکاروں کو گردوارہ دربار صاحب میں پناہ لینا پڑی۔
تمام اہلکار اور سامان کو محفوظ طریقے سے منتقل کر دیا گیا، اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پاکستان رینجرز بھی چوکیوں سے ہٹ گئےحکام کے مطابق زیرو لائن کے دونوں اطراف سیلابی پانی پھیل گیا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان رینجرز کو بھی اپنی فرنٹ لائن چوکیوں کو خالی کرنا پڑا۔
حفاظتی بندھوں میں بڑے شگافڈریںج ڈپارٹمنٹ کے مطابق صرف گورداسپور میں 28 بندھ ٹوٹے ہیں۔ امرتسر میں 10 سے 12 مقامات پر شگاف پڑے جبکہ پٹھان کوٹ میں 2 کلومیٹر طویل بندھ مکمل طور پر بہہ گیا۔
بعض جگہوں پر شگاف 500 سے 1000 فٹ چوڑے ہیںم جنکی ابتدائی مرمت شروع کر دی گئی ہے مگر مکمل بحالی میں کئی ہفتے لگیں گے۔
ریسکیو اور ریلیف آپریشنبی ایس ایف اہلکاروں نے مقامی آبادی کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ فاضلکا اور ابوہڑ کے علاقوں میں ہزاروں افراد اور ان کے مویشی نکالے گئے۔
جبکہ میڈیکل اور ویٹرنری کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
حالات میں بہتری کی امیدبھارتی محکمہ آبپاشی کے حکام کے مطابق آنے والے تین دن خشک موسم کی پیشگوئی ہے جس کے بعد پانی کی سطح نیچے آنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سیلاب متاثرین کی بحالی حکومت کی ترجیح ہے، وزیراعظم شہباز شریف
صرف نشیبی علاقے زیرِ آب رہیں گے، جبکہ باقی حصوں میں صورتحال معمول پر آ سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بی ایس ایف پاک بھارت بارڈر پاکستان رینجرز دریائے راوی راوی طغیانی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بی ایس ایف پاک بھارت بارڈر پاکستان رینجرز دریائے راوی راوی طغیانی بی ایس ایف مقامات پر کے مطابق
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب