پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ گلوکار عاطف اسلم ان دنوں بیرونِ ملک مصروف کنسرٹس میں اپنی آواز اور پرفارمنس سے مداحوں کے دل جیت رہے ہیں۔ فی الحال وہ کینیڈا میں موجود ہیں اور وہاں اپنے فینز کو محظوظ کر رہے ہیں۔

کینیڈا میں مقیم بھارتی نژاد صحافی فریدون شہریار کو دیے گئے انٹرویو میں عاطف اسلم نے ان پر ہونے والی حالیہ تنقید کے بارے میں کھل کر بات کی۔ یہ تنقید اس وقت سامنے آئی جب والد کے انتقال کے فوراً بعد انہوں نے کنسرٹ میں پرفارم کیا، جس پر سوشل میڈیا پر ملے جُلے ردعمل دیکھنے کو ملے۔

عاطف اسلم نے کہا کہ بعض لوگوں نے ان کے دکھ کو اپنی ریٹنگز اور کمائی کا ذریعہ بنایا۔ ان کے مطابق: “یہ میرا فیصلہ تھا کہ مجھے اسٹیج پر جانا ہے یا نہیں، اس کے لیے مجھے کسی کی اجازت یا رائے کی ضرورت نہیں۔ یہ میرا کام نہیں کہ میں ہر ایک کو وضاحت دیتا پھروں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ میری زندگی ہر وقت دوسروں کے لیے نہیں ہوسکتی۔ لوگ مجھے میرے فن اور موسیقی کے حوالے سے چاہ سکتے ہیں یا تنقید کرسکتے ہیں، لیکن کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ میری ذاتی زندگی پر حکم چلائے۔ عاطف اسلم کے مطابق، ان سے بار بار صفائی پیش کرنے کی توقع رکھنا درست نہیں ہے۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب

کراچی:

ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔

درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔

درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔
 

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے