لاہور:  امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کاکہنا ہے کہ حکومت نجی شعبے کو تعلیم بطور تجارت کرنے کی اجازت نہ دے، حکومت نے اپنی ذمہ داری ختم کردی ہے اس لیے طبقاتی نظام تعلیم فروغ پا رہا ہے، حکومت و ریاست کی ذمہ داری ہے کہ نجی شعبے کو تعلیم فروخت نہ کرے۔

حافظ نعیم الرحمن کاکہنا تھاکہ لوگ زبان و ثقافت کو قوم جانتے ہیں جبکہ مسلمان معاشرے کسی جغرافیے نہیں بلکہ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر تشکیل پاتے ہیں۔یہ بات انہوں نے منصورہ لاہور میں جماعت اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنس بیاد پروفیسرخورشید احمد مرحوم کے نام سے تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر ملک کی نامور شخصیات شریک بھی ہوئیں۔

امیر جماعت کاکہنا تھاکہ کچھ لوگ پاکستان کے خلاف بولنا شروع کردیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ پاکستان بنانے کی کیا ضرورت تھی ۔ لوگ زبان و ثقافت کو قوم جانتے ہیں جبکہ مسلمان معاشرے کسی جغرافیے نہیں بلکہ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر تشکیل پاتے ہیں۔

ان کاکہنا تھاکہ پروفیسر خورشید احمد کی فکر بہت وسیع تھی ان کی گفتگو و علم میں کہیں بھی ذات کی اسیری نظر نہیں آئی،۔

تقریب سے خطاب میں ضیا الدین انصاری کا کہنا تھا کہ پروفیسر خورشید احمد مرحوم ایک عظیم شخصیت تھے جنہوں نے تحریک، ترقی اور اسلامائزیشن کے لیے کاوشیں کیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

پڑھیں:

وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

مزید :

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم