کراچی:

شہر قائد کے مختلف علاقوں میں ایک بار پھر بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں ملیر ندی سمیت دیگر نالوں اور نشیبی علاقوں میں پانی کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

محمودآباد، گشن حدید، لانڈھی، کورنگی، ایئرپورٹ، ڈیفنس، گلشن اقبال اور گلستان جوہر سمیت مختلف علاقوں میں تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

گلشن حدید، ملیر اور گڈاپ کے مختلف علاقوں میں شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

ملیر ندی میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ جاری ہے اور شاہراہِ بھٹو کے کئی پلر پانی کی زد میں آ چکے ہیں۔ ممکنہ خطرات کے پیش نظر ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد خود موقع پر پہنچ گئے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔

ڈپٹی میئر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کے ایم سی کا ریسکیو عملہ، ہیوی مشینری اور متعلقہ ادارے مکمل طور پر الرٹ ہیں اور قائد آباد کے قریب ملیر ندی پر موجود ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی جا سکے۔

سلمان عبداللہ مراد نے کہا کہ مسلسل پانی کے اضافے کے پیش نظر تمام ہیوی مشینری کو ایمرجنسی پلان کے تحت ملیر ندی کے قریب پہنچا دیا گیا ہے، تاکہ فوری نکاسی، رکاوٹوں کے خاتمے اور ریسکیو آپریشنز میں وقت ضائع نہ ہو۔

ڈپٹی میئر نے اعلان کیا کہ وہ خود اور ان کی ٹیم ساری رات موقع پر موجود رہے گی، اور کے ایم سی، ڈسٹرکٹ ملیر انتظامیہ اور ریسکیو ادارے مل کر صورت حال پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی (ایم این ایز اور ایم پی ایز) بھی علاقے میں پہنچ گئے ہیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ کے افسران مسلسل فیلڈ میں موجود ہیں۔

ڈپٹی میئر کے مطابق گڈاپ سمیت دیگر ملحقہ علاقوں کی صورتحال پر خاص نظر رکھی جا رہی ہے، جہاں بارش اور پانی کے بہاؤ کے باعث شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر مزید بارش ہوئی تو ندی کے اطراف آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل بھی شروع کیا جا سکتا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: علاقوں میں ڈپٹی میئر ملیر ندی پانی کی

پڑھیں:

امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا