Express News:
2026-07-24@04:45:12 GMT

مسئلہ کالا باغ ڈیم کا

اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT

پنجاب کے سرحدی شہر میانوالی سے 20 کلو میٹر دور کالا باغ کا علاقہ ہے جہاں سے دریائے سندھ گزرتا ہے۔ یہ دریا چین کے صوبہ تبت کے علاقے سے نکلتا ہے اور اپنا سفر طے کرتے ہوئے پاکستان میں گلگت بلتستان اور شمالی خیبر پختونخوا کے اضلاع سے گذرتا ہوا پنجاب کے شہر اٹک کے میں داخل ہوتا ہے ، جہاں افغانستان سے آنے والے دریائے کابل کا پانی دریائے سندھ میں شامل ہوجاتا ہے۔ سابق صدر ایوب خان کے دور میں منگلا اور تربیلا ڈیم تعمیر ہوئے۔

اسی دور میں کالا باغ کے مقام پر ایک بہت بڑا ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ تیار ہوا۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس ڈیم کی لمبائی 259 فٹ اور چوڑائی 10991 فٹ ہونی تھی اور اس ڈیم میں پانی کی گنجائش 7.

52 KM ہونی تھی۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ کالاباغ ڈیم سے 3600 میگاواٹ بجلی تیارکی جاسکے گی، سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو کے دور میں واپڈا کو ڈیم کی تعمیرکے لیے سروے کا کام سونپا گیا تھا۔ اس دوران پختون خوا کے شہر نوشہرہ کا ایشو سامنے آیا کہ کالا باغ ڈیم تعمیر ہوا تو کی بڑی جھیل میں نوشہرہ ڈوب جائے گا۔ اس وقت تک صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا جدید نظام قائم نہیں ہوا تھا۔

 پنجند کے مقام پر دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم کی نگرانی کے لیےIndus River System Authority (IRSA) کا قیام عمل میں آیا تھا، یہ ادارہ 1991ء میں قائم ہوا۔ سندھ کے ماہرین اور قوم پرست سیاستدانوں کو مسلسل یہ شکایت تھی کہ دریائے سندھ اور ملحقہ دریاؤں کے پانی کا بیشتر حصہ پنجاب کو ملتا ہے۔ سندھ کے حصے میں کم پانی آتا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے تھے کہ دریائے سندھ کم پانی کی بناء پر سکڑ رہا ہے۔

سندھ کی زراعت کو پانی نہ ملنے سے نقصان ہورہا ہے۔ خاص طور پر نہروں کے آخری کناروں پر آباد ہاریوں اور زمینداروں کو ان کی ضروریات سے کم پانی ملتا ہے اور دریائے سندھ کے صاف پانی کی کم مقدار بحیرہ عرب میں جارہی ہے جس کے نتیجے میں ٹھٹہ اور بدین کے ساحلی علاقے سمندر زمین کو کھا رہا ہے۔

ساحلی علاقوں میں قدرتی جنگلات مینگروزکم ہو رہے ہیں۔ دریائے سندھ کا صاف پانی سمندر میں نہ جانے سے سمندری مخلوق کی افزائش متاثر ہوتی ہے، اگر دریائے سندھ کا پانی مناسب مقدار میں سمندر میں نہیں گرے گا تو کراچی سے لے کر بدین اور رن کچھ کے علاقہ تک کی ساحلی پٹی پر آباد علاقوں کے مکین غربت کی لکیر کے نیچے آجائیں گے، ان وجوہات کی بناء پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے علاوہ چاروں صوبائی اسمبلیوں میں زوردار بحث ہوئی۔ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختون خوا کی اسمبلیوں اور سینیٹ میں متفقہ طور پر اس مؤقف پر اتفاق کیا گیا کہ کالا باغ ڈیم نہیں بنایا جائے۔

90ء کی دہائی میں اخبارات کے فورمز، یونیورسٹیوں، سیاسی جماعتوں کے اجتماعات میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر خوب بحث و مباحثہ ہوا۔ پیپلز پارٹی، نیشنل پارٹی، ایم کیو ایم، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے علاوہ قوم پرست تنظیموں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی سخت مخالفت کی تھی۔

مسلم لیگ ن، پنجاب اور خیبر پختون خوا کی جماعت اسلامی کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی مکمل حامی تھیں۔ چھوٹے صوبوں کی شدید مخالفت کی بناء پر مسلم لیگ ن نے اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں اس بات پر اتفاق رائے کیا گیا تھا کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر نہیں ہوگی

پھر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو ڈیموں کی تعمیرکا فریضہ انجام دینے کا خیال آگیا اور انھوں نے بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈ جمع کرنے کی مہم چلائی۔ برصغیر ہندوستان اور پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ حاضر سروس چیف جسٹس نے ڈیموں کی تعمیر کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم چلائی ہو۔ اس فنڈز میں جو رقم بینکوں میں محفوظ تھی ، وہ کہیں قانون کی کتابوں میں کھوگئی ۔

گلوبل وارمنگ سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ اس سال مون سون کا سیزن بہت شدت سے آیا۔ گلوبل وارمنگ نے گلگت اور پھر پختون خوا میں تباہی مچائی۔ مسلسل درجہ حرارت بڑھنے کے اثرات گلیشیئرز پر پڑے۔ گلیشیئرز پگھلنے سے پانی کے ریلے نے دریائے سندھ اور پانی کے قدرتی راستوں میں آنے والے ہوٹلوں اور مکانات کو مسمار کردیا۔ تجاوزات کی تعمیر کے قدرتی راستے تنگ ہوگئے تھے، اس بناء پر زیادہ تباہی آئی۔ پختون خوا میں کئی علاقوں میں شدید بارشوں نے تباہی مچائی۔

خیبر پختون خوا میں گزشتہ بارشوں میں 700 افراد جاں بحق ہوئے مگر گلگت اور پختون خوا کے یہ علاقے کالاباغ ڈیم کے علاقے سے بہت دور ہیں۔ ان علاقوں سے دریائے سندھ میں آنے والا پانی بعد میں کالاباغ سے گزرتا ہے۔ یہ فرض کرلیں کہ اگر کالاباغ ڈیم تعمیر ہوتا تو گلگت اور پختون خوا کے مختلف علاقوں میں بارش کے پانی سے آنے والی تباہی کو روکا نہیں جاسکتا تھا۔

 بھارتی ریاستوں مشرقی پنجاب ، یو پی کے بعض علاقوں، مدھیہ پردیش میں بارشوں کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ اسی طرح بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے بعض علاقوں میں شدید بارش ہوئی۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ اور بارشوں کے نتیجہ میں کئی سو افراد ہلاک ہوگئے۔

بھارت کی مختلف ریاستوں میں ہونے والی بارشوں سے دریائے راوی، دریائے ستلج اور دریائے بیاس میں سیلاب آگیا۔ ان دریاؤں کے پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے بھارت سے مختلف علاقوں میں تین بڑے ڈیم پانی کا بوجھ برداشت نہ کرسکے اور وسیع علاقے میں تباہی مچائی۔ ہریانہ اور مدھیہ پردیش کے بعض گاؤں بارش میں مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔

بھارت نے پھر دریائے راوی، ستلج اور بیاس میں پانی چھوڑ دیا۔ یہ تینوں دریا کالاباغ سے سیکڑوں میل دور مختلف سرحدی مقامات سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں داخل ہونے تھے مگر ناقص منصوبہ بندی کی بناء پر لاہور میں دریائے راوی کے کنارے ہاؤسنگ سوسائٹیاں تعمیر کی گئی تھیں۔ دریائے راوی نے اپنے فطری راستوں پر سفر کرتے ہوئے ان ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو تباہ کردیا۔ بقول وزیر دفاع خواجہ آصف ناقص تعمیرات کی بناء پر سیالکوٹ شہر ڈوب گیا۔ یہی صورتحال ملتان، شجاع آباد، لودھراں، بہاولپور اور بہاولنگر وغیرہ کے علاقوں میں ہوئی۔ ان علاقوں میں دریائے بیاس اور دریائے سندھ کے کناروں پر ہزاروں ایکڑ زرعی زمین پانی میں ڈوب گئی۔

اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مقتدر قوتوں نے سیلاب کی تباہی کی ساری ذمے داری کالاباغ ڈیم کی عدم تعمیر پر عائد کی۔ پہلے تو وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک اس مہم میں شامل ہوئے اور اب خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کو کسی سے بشارت ہوئی اور وہ اچانک نئے صوبوں کے قیام اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے قائل ہوگئے۔ آبپاشی کے ماہر ڈاکٹر حسن عباس کا کہنا ہے کہ بڑے ڈیمز سے سیلاب کی صورتحال میں زیادہ نقصان ہوتا۔ لوگ بڑے ڈیم بنا کر مطمئن ہوجاتے ہیں اور دریا کی چوڑائی کم ہوجاتی ہے۔

بااثر افراد دریا کے کنارے ہاؤسنگ سوسائٹی بنالیتے ہیں۔ ڈاکٹر عباس مزید کہتے ہیں کہ ڈیم چھوٹے سیلابوں کو تو ختم کردیتا ہے مگر بڑے سیلابوں کو وسعت دیتا ہے۔ سندھ کے آبپاشی کے وزیر جام خان شورو نے ایک ٹاک شو میں بتایا کہ دریاؤں کو چھیڑنے کے خطرناک نتائج نکلتے ہیں۔ اس دھرتی کو 6 دریاؤں کی ضرورت تھی۔

سمندر کو بھی 6 دریاؤں کا پانی چاہیے تھا مگر سندھ طاس معاہدے کی بناء پر تین دریا بھارت میں چلے گئے اور دریائے سندھ میں دو بڑے ڈیم بن گئے جس سے زمین کا ایکو سسٹم تباہ ہوا، اس ایکو سسٹم کو بحال کرنا ہوگا۔ تمام ماہرین کی یہ رائے ہے کہ گلوبل وارمنگ سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ چھوٹے ڈیم، جھیلیں اور تالاب بنائے جائیں تاکہ سیلابی پانی محفوظ ہوسکے اور دریائے سندھ کے پانی میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: باغ ڈیم کی تعمیر اور دریائے سندھ دریائے سندھ کے خیبر پختون خوا پختون خوا کے کالا باغ ڈیم کالاباغ ڈیم دریائے راوی کی تعمیر کے علاقوں میں کی بناء پر ڈیم تعمیر اور دریا کہ کالا بڑے ڈیم کے پانی پانی کی کے لیے

پڑھیں:

حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری

صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔

شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب