پانی کے بہاؤ کے سبب ملیر ندی میں دو افراد ڈوب گئے، ایک بچ گیا دوسرے کی تلاش جاری
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
کراچی:
پانی کے بہاؤ کے سبب ملیر ندی میں دو افراد ڈوب گئے، ایک افراد بچ گیا دوسرے کی تلاش جاری ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ملیر ندی میں نوجوانوں کے ڈوبنے سے متعلق رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کردی گئی۔
ڈی سی ملیر نے بتایا کہ واقعہ گوٹھ یار محمد تعلقہ ابراہیم حیدری میں پیش آیا جس میں بتایا گیا کہ دو افراد ملیر ندی پار کر رہے تھے، پانی کے بہاؤ میں اضافہ کے باعث حادثہ رونما ہوا، ایک شخص27 سالہ عرفان احمد ترین ڈوب گیا جبکہ دوسرا شخص علی گل میتھیانی بحفاظت باہر نکل آیا۔
ڈی سی ملیر نے کہا کہ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں لاش کی تلاش میں مصروف ہیں، خود ریسکیو آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق وزیراعلیٰ نے ہدایت دی ہے کہ ملیر ندی کے آس پاس دیہاتوں کو صورتحال سے کیا جائے، عوام کی جان اور مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملیر ندی
پڑھیں:
چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں