خلیجی ممالک میں منشیات اسمگل میں ملوث بین الاقوامی نیٹ ورک بے نقاب، اہم ارکان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
راولپنڈی:
اے این ایف نے کارروائی کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں منشیات اسمگل میں ملوث بین الاقوامی نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا۔
ترجمان اے این ایف کے مطابق بین الاقوامی نیٹ ورک افغانستان، پاکستان اور قطر میں کام کر رہا تھا۔
منشیات اسمگلروں کا نیٹ ورک افغان کے سپلائرز سے منشیات حاصل کر کے چھوٹی مقدار میں پاک افغان سرحد سے پاکستان لاتا اور بعد میں انہیں فضائی و بحری راستوں سے خلیجی ممالک اسمگل کرتا تھا۔
قطر میں یہ منشیات وصول کر کے دیگر جی سی سی ممالک میں آن لائن ٹریڈ نیٹ ورکس اور لاجسٹک چینلز کے ذریعے سپلائی کی جاتی تھی۔ اسمگلنگ میں سی پورٹس کے ذریعے سامان منتقل کرنے والے ڈرائیور بھی شامل تھے۔
قانونی رکاوٹوں پر قابو پانے اور اسمگلرز کو بے نقاب کرنے کے لیے اے این ایف نے اپنی حکمتِ عملی سے نہ صرف اہم شواہد اکٹھے کیے بلکہ اسمگلنگ کے راستوں اور نیٹ ورکس کی نشاندہی بھی کی۔ ان کوششوں کے نتیجے میں اے این ایف نے 5 کلو گرام ہیروئن اور میتھ ایمفیٹامائن سے جذب شدہ کپڑا برآمد کر کے اس نیٹ ورک کے اہم ارکان کو گرفتار کر لیا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ اسمگلرز منظم مافیا سے منسلک ہیں جو جدید اسمگلنگ کے طریقوں اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنا غیر قانونی کاروبار بڑھا رہے تھے۔ آپریشن نے خلیجی ممالک میں منشیات اسمگل کرنے کی مزید کوششوں کے خلاف ایک مضبوط رکاوٹ پیدا کی ہے۔
ترجمان اے این ایف کے مطابق مزید ارکان کی گرفتاری اور ان کے اثاثوں کی نشاندہی کے لیے کارروائیاں اور تحقیقات جاری ہیں۔
اپریل 2025 میں ہونے والی کامیاب جی سی سی کانفرنس کے بعد، اے این ایف نے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنایا۔ اس تعاون کا مقصد فضائی، زمینی اور سمندری راستوں کے ساتھ ساتھ بندرگاہوں پر بھی انسدادِ منشیات کی کارروائیوں کو بڑھانا ہے تاکہ بین الاقوامی ڈرگ ٹریفکنگ آرگنائزیشنز کے نیٹ ورکس کو توڑا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی اے این ایف نے منشیات اسمگل خلیجی ممالک ممالک میں نیٹ ورک
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔