Express News:
2026-07-24@09:07:07 GMT

زرتاج گل کی نااہلی کیخلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ

اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT

پشاور ہائی کورٹ نے زرتاج گل کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

پشاور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی رہنما عبدالطیف کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔

وکیل الیکشن  نے کہا کہ درخواست گزار ممبر قومی اسمبلی ہے، اے ٹی سی نے سزا سنائی، جب کسی کو سزا ہو جائے تو وہ پبلک آفس ہولڈ نہیں کرسکتا۔

جسٹس سید ارشد علی  نے ریمارکس دیے کہ اسحاق ڈار کیس میں لاہور ہائیکورٹ قرار دے چکی یے کہ اگر کسی کو سزا ہوجائے تو پھر بھی ان  کو حقوق حاصل ہوتے ہیں۔

بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ آج عدالت کے سامنے چھ کیسز ہیں، عمر ایوب، شبلی فراز کی دو دو درخواستیں ہیں، 5 اگست کو الیکشن کمیشن نے درخواست گزاروں کو نااہل کیا اور 7 اگست کو اسپیکر نے ان کی سیٹ خالی قرار دے دی،  کسی کو سزا بھی ہو جائے تو الیکشن کمیشن تین مہینے میں فیصلہ کرے گا، زرتاج گل بھی ممبر قومی اسمبلی ہے، اس کا بھی کیس ہے۔

جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ اس طرح کے اور کیسز بھی تھے اس پر فیصلہ آچکا ہے،
عدالت نے کہا کہ زرتاج گل کا کیس پہلے سنتے ہیں، باقی بعد میں سنیں گے۔

پشاور ہائی کورٹ میں زرتاج گل کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، درخواست پر سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس  محمد فہیم ولی نے کی۔

وکیل درخواست گزار  نے مؤقف اپنایا کہ درخواست گزار کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے، تمام ڈاکومنٹس موجود ہیں، اے ٹی سی سزا کے بعد الیکشن کمیشن نے 5 اگست کو نااہل کیا، درخواست گزارہ ڈیرہ غازی خان سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئی ہے، ایک ہی نوٹیفکیشن پر ممبران کو الیکشن کمیشن نے نااہل کیا۔

وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن نوٹیفکیشن کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی اور عدالت نے اس کو سنا، یہاں پر اسی نوٹیفیکیشن کے خلاف عمر ایوب اور شبلی فراز کی درخواستیں پہلے سے دائر تھیں، اس وجہ سے ہم نے بھی یہاں پر درخواست دائر کی۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ درخواست گزار خیبرپختونخوا میں پیدا ہوئی، 9 مئی کے بعد درخواست گزار خیبرپختونخوا میں رہ رہی ہے، اگر یہاں پر درخواست گزارہ کا کیس عدالت نہ سنتی تو پھر ہم دوسری ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے،  درخواست گزارہ کو سزا بھی ان کی غیر موجودگی میں دی گئی ہے، درخواست گزارہ نے سزا کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔

جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا کہ اپیل کب سماعت کے لئے مقرر ہے؟ وکیل درخواست گزار  نے جواب دیا کہ ابھی سماعت کے لئے مقرر نہیں ہے، ہوسکتا ہے اگلے ہفتے مقرر ہوجائے، corrective jurisdiction میں بھی میں آسکتا ہوں، کیونکہ یہاں پر پہلے سے اسی طرح کے کیسز زیر سماعت ہیں۔

انہوں نے مؤقف اپنایا کہ 31 جولائی کو اے ٹی سی فیصلہ سناتی ہے، الیکشن کمیشن کو کسی نے ریفرنس نہیں بھیجا اور 5 اگست کو الیکشن کمیشن نے درخواست گزارہ اور دیگر کو نااہل قرار دیا، الیکشن کمیشن نے مجھے سننے کا موقع نہیں دیا، اور نااہلی کا نوٹفیکیشن جاری کیا،  الیکشن کمیشن سینٹرلائز ہے، اس لئے یہ ہائیکورٹ اس درخواست کو سن سکتی ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر لا الیکشن کمیشن  نے مؤقف اپنایا کہ اسی طرح کی اور درخواستوں پر اس عدالت نے فیصلے کئے ہیں، ان کی درخواست اس عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی، یہ لاہور یا اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرسکتے ہیں۔

جسٹس سید ارشد علی  نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے ایک نوٹیفکیشن میں کیوں نااہل کیا، کیا الیکشن کمیشن کو جلدی تھی؟ ڈپٹی ڈائریکٹر لاء الیکشن کمیشن  نے جواب دیا کہ ایک ہی کیس میں سزا ہوئی تھی، اس وجہ سے الیکشن کمیشن نے ایک نوٹفیکیشن کیا۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل  نے مؤقف اپنایا کہ درخواست گزارہ کو سزا اے ٹی سی فیصل آباد سے ہوئی، ان کا کیس یہاں پر قابل سماعت نہیں ہے، درخواست گزارہ کو سزا ہوئی،  ابھی تک مفرور ہے۔

جسٹس سید ارشد علی  نے ریمارکس دیے کہ آپ لوگ ان کو کیوں  گرفتار نہیں کررہے، آپ بھی تو عدالت کے آرڈر نہیں مانتے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل  نے مؤقف اپنایا کہ اس عدالت نے ان کو حفاظتی ضمانت دی۔

جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ اس عدالت نے تین دن کی ضمانت دی تھی، اس کے بعد آپ نے کیا کیا۔

وکیل شکایت کنندہ نے کہا کہ  درخواست گزارہ مفرو ہے، عدالت نے سزا سنائی، ابھی تک خود کو سرنڈر نہیں کیا، ان کو سزا ہوئی ہے، یہ پبلک آفس کو استعمال نہیں کرسکتی۔

وکیل درخواست گزار سید سکندر حیات شاہ نے کہا کہ صاحبزداہ حامد رضا اور دیگر کی جو پانچ درخواستیں عدالت نے واپس کی ہیں، اس میں ہم نظر ثانی درخواست دائر کررہے ہیں۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت عالیہ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: خلاف دائر درخواست پر وکیل درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ جسٹس سید ارشد علی الیکشن کمیشن نے درخواست گزارہ درخواست دائر کی نااہلی نااہل کیا نے کہا کہ زرتاج گل عدالت نے اس عدالت اے ٹی سی اگست کو کے خلاف یہاں پر کو سزا کے بعد

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن