عمرقید کے ملزم کی اپیل پر سماعت: جج سپریم کورٹ کا مدعی مقدمہ سے دلچسپ مکالمہ، کمرہ عدالت میں قہقہے
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
عمرقید کے ملزم کی اپیل پر سماعت: جج سپریم کورٹ کا مدعی مقدمہ سے دلچسپ مکالمہ، کمرہ عدالت میں قہقہے WhatsAppFacebookTwitter 0 11 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:سپریم کورٹ میں عمر قید کے ملزم عبدالرزاق کی اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے مدعی مقدمہ سے دلچسپ مکالمہ کیا اور کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔
مدعی مقدمہ نیاز احمد نے کہا کہ ہم نے وکیل کرنا ہے، وقت چاہیے، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ ملزم نے عمر قید کی سزا مکمل کرکے 11 جنوری 2026 کو رہا ہو جانا ہے، آپ کو وکیل کرنے کی کیا ضرورت ہے، تین، چار ماہ کی بات ہے۔
مدعی نیاز احمد نے کہا کہ ایک وکیل صاحب سے بات کی ہے وہ 12 لاکھ روپے مانگ رہا ہے، جسٹس ہاشم کاکڑ نے مکالمہ کیا کہ وکیل کو بارہ لاکھ روپے کیوں دینا چاہتے ہیں۔
مدعی مقدمہ نے کہا کہ ملزم نے دو افراد کو قتل کیا ہے، جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ 12 لاکھ روپے اپنے بچوں کی پڑھائی پر لگاؤ، وہ کام جو وکیل نے بارہ لاکھ روپے لیکر کرنا ہے وہ کام سرکاری وکیل مفت میں کر دے گا۔
مدعی نیاز احمد نے کہا کہ نہیں ہمیں وکیل کرنے کیلئے وقت دے دیں، جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چلیں مرضی ہے آپ کی، وکیل کہیں یہ نہ کہہ دیں میں ان کے خلاف بات کر رہا ہوں، ٹھیک ہے آپ بارہ لاکھ روپے والا وکیل کر لیں، اس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے۔
سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 26 ستمبر تک ملتوی کردی، جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکی صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی چارلی کرک قاتلانہ حملے میں ہلاک امریکی صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی چارلی کرک قاتلانہ حملے میں ہلاک نیتن یاہو نے قطر پر حملے کو پاکستان میں بن لادن کیخلاف امریکی آپریشن سے تشبیہ دے دی نیب، ایف آئی اے اور پولیس سے عمران خان کیخلاف مقدمات کی تفصیلات طلب حسان نیازی کی ملٹری کسٹڈی، کورٹ مارشل کیخلاف درخواست سماعت کیلیے مقرر اسرائیلی حملے سے یرغمالیوں کی رہائی کی تمام امیدیں ختم ہوگئیں: قطری وزیراعظم نیپال میں احتجاج کے دوران 13 ہزار 500 قیدی جیلوں سے فرارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کمرہ عدالت میں قہقہے جسٹس ہاشم کاکڑ نے سپریم کورٹ لاکھ روپے نے کہا کہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :