ذاکر نائیک کی صحت سے متعلق افواہیں بے بنیاد، وکیل کا دوٹوک ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
نئی دہلی: عالمی شہرت یافتہ اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی صحت کے حوالے سے بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی افواہوں نے ہلچل مچا دی ہے، اب ان کا پہلا باضابطہ ردعمل سامنے آگیا ہے جس میں ان خبروں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گزشتہ روز یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ذاکر نائیک ایڈز کے مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں اور ملائیشیا کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں، کچھ غیر مصدقہ ویب سائٹس اور اکاؤنٹس نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ ذاکر نائیک کی اہلیہ فرحت نائیک اور ان کی بیٹی کا ایچ آئی وی ٹیسٹ بھی مثبت آیا ہے، ان جھوٹی خبروں کو تیزی سے پھیلایا گیا جس نے عوام میں تشویش پیدا کر دی۔
سوشل میڈیا پر ذاکر نائیک اور ان کے خاندان سے منسوب جعلی رپورٹس وائرل ہوئیں، لیکن کسی معتبر خبر رساں ادارے یا سرکاری سطح سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی، اس خاموشی نے افواہوں کو مزید تقویت دی۔
اب ذاکر نائیک کے وکیل اکبر الدین عبدالقادر نے ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے اس تمام پروپیگنڈے کو سختی سے رد کر دیا ہے، ڈاکٹر ذاکر نائیک مکمل طور پر صحت مند ہیں اور اپنے گھر پر اہل خانہ کے ساتھ موجود ہیں۔ وہ اپنی دینی و تعلیمی سرگرمیوں میں بدستور مصروف ہیں۔
وکیل نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی یہ خبریں جھوٹ کا پلندہ ہیں، ان کا مقصد صرف عوام کو گمراہ کرنا اور ذاکر نائیک کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے،انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کسی قسم کی افواہ پر یقین نہ کریں اور منفی پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں۔
خیال رہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک پر بھارت میں منی لانڈرنگ، نفرت انگیز تقاریر اور دہشت گردی کی مالی معاونت جیسے جھوٹے مقدمات بنائے گئے تھے، مودی سرکار نے ان کے ادارے “اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن” پر بھی پابندی عائد کر دی تھی، جس کے بعد 2016 میں وہ بھارت چھوڑ کر ملائیشیا منتقل ہوگئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ذاکر نائیک کی سوشل میڈیا
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔