نیپال میں احتجاج کے دوران 13 ہزار سے زائد قیدی فرار
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف شروع ہونے والے نوجوانوں کے احتجاج نے ملک گیر بغاوت کی شکل اختیار کر لی، جس کے دوران ملک بھر سے 13,500 قیدی جیلوں سے فرار ہو گئے۔
نیپالی پولیس کے ترجمان کے مطابق، مظاہروں کے دوران 3 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ کئی جیلوں پر حملے کیے گئے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں قیدیوں کو جیلوں سے نکلتے اور فوج کو انہیں روکنے کی کوشش کرتے دیکھا گیا۔
پولیس اب صرف ہیڈکوارٹرز تک محدود ہے، اور امن و امان کی بحالی کے لیےفوج نے سڑکوں پر گشت شروع کر دیا ہے۔ فوج کے سربراہ نے مظاہرین سے پرامن مذاکرات کی اپیل کی ہے۔
یاد رہے کہ یہ احتجاج سوشل میڈیا پر عائد پابندی کے خلاف شروع ہوا تھا، جو بعد میں وزیراعظم کے پی شرما اولی کے استعفے پر منتج ہوا۔ تاہم، مظاہرے اب بھی جاری ہیں اور کئی سرکاری و نجی عمارتوں پر حملے کیے جا چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔