لاہور:

پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باوجود بھارت نے 67 پاکستانی قیدی رہا کر دیے ہیں، جنہیں اٹاری-واہگہ بارڈر پر پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا، جن میں 53 ماہی گیر اور 14 سول قیدی شامل ہیں جو کئی برسوں سے مختلف جیلوں میں قید تھے۔

بھارت میں قائم پاکستان کے ہائی کمیشن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ 48 ماہی گیروں سمیت 67 پاکستانی شہری اٹاری-واہگہ باڈر کے ذریعے پاکستان پہنچے۔

بیان میں کہا گیا کہ 67 قیدیوں میں 19 عام شہری اور 48 ماہی گیر شامل ہیں۔

پاکستانی ہائی کمیشن نے بتایا کہ قیدیوں کی وطن واپسی کے عمل کی سہولت کاری کے لیے پاکستان ہائی کمیشن دہلی کے عہدیدار موقع پر موجود رہے۔

مزید بتایا گیا کہ حکومت پاکستان بھارتی جیلوں میں قید تمام پاکستانیوں کی رہائی کے لیے سرگرم عمل رہے گی۔

بھارت سے رہا ہو کر واپس آنے والے ان قیدیوں کا تعلق زیادہ تر کراچی سمیت سندھ کے ساحلی علاقوں سے بتایا جا رہا ہے، رہائی پانے والوں میں کئی ایسے افراد شامل ہیں جو مچھلیاں پکڑتے ہوئے سمندری حدود کی خلاف ورزی پر گرفتار ہوئے تھے، بھارت سے رہا ہو کرآنے والے 21 قیدی گجرات، ایک  راجستھان، 39  پوربندر سے، حیدرآباد اور لدھیانہ سے ایک ایک اور چار قیدی امرتسر کی جیل میں تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بھارتی جیلوں میں قید ایسے پاکستانی جن کی سزائیں مکمل ہوچکی ہیں ان کی رہائی کے لیے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

بھارتی جیلوں سے پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا عمل ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہیں۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے ماہی گیر کے متعلق بتایا گیا کہ وہ 19 برس کی عمر میں ساتھیوں سمیت سمندر میں مچھلی پکڑنے گئے تھے جہاں انہیں بھارتی فورس نے گرفتار کرلیا تھا، وہ 15 لوگ تھے جن میں دو کی بھارتی جیل میں ہی موت ہوگئی تھی تاہم 19 برس کی عمر میں قید ہونے والے ماہی گیر کو والد سمیت رہائی مل گئی ہے اور وہ واپس پاکستان پہنچ گئے ہیں لیکن ان کے کئی ساتھی اب بھی بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق سیکیورٹی کلیئرنس اور تفتیش کے بعد ان شہریوں کو ان کے گھروں کو روانہ کردیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت سے پانچ پاکستانی قیدی سزا پوری کرکے وطن واپس پہنچ گئے

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت نے یکم جولائی 2025 کو ایک دوسرے کے ساتھ ایک دوسرے ملک کے قیدیوں کی فہرست کا تبادلہ کیا تھا جس کے مطابق پاکستان میں بھارتی قیدیوں کی تعداد 246 تھی جن میں 53 سول قیدی اور 193 ماہی گیر شامل تھے جبکہ بھارت نے پاکستان کو 463 قیدیوں کی فہرست بھجوائی تھی، جن میں 382 سول قیدی اور 81 ماہی گیر بتائے گئے تھے۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستانی قیدی جیلوں میں قید بھارتی جیلوں قیدیوں کی ماہی گیر

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا