Express News:
2026-06-03@05:46:05 GMT

ایشیا کے نئے خواب اور پرانے سوال

اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT

صدیوں کے سفر نے ہمیں بارہا یہ سکھایا ہے کہ طاقتوروں کے فیصلے ہمیشہ عوام کے لیے خواب اور سوال چھوڑ جاتے ہیں۔ جب نوآبادیاتی طاقتیں ایشیا کے ساحلوں پر اتری تھیں تو ہماری زمینیں، ہماری زبانیں اور ہمارے خواب سب کے سب ان کے پنجوں میں جکڑ گئے تھے۔

ہم سے جو کچھ چھینا گیا وہ واپس آج تک نہیں آیا۔ ہماری مٹی سے اناج، کپاس اور قیمتی معدنیات کے قافلے یورپ کے گوداموں تک جاتے رہے اور ہمارے کسانوں اور مزدوروں کے حصے میں غربت اور غلامی آئی۔

آج جب بیجنگ کی میز پر روس کے صدر ولادیمیر پیوتن، چین کے صدر شی جن پنگ اور بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اکٹھے ہوئے اور پاکستان بھی کسی نہ کسی درجے پر اس محفل میں موجود تھا تو میرے ذہن میں ایک ہی سوال گونجتا رہا، کیا یہ واقعی ایک نیا بلاک ہے یا طاقت کے پرانے کھیل کا ایک نیا باب؟

تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ طاقتوروں کے اتحاد اکثر عوام کو بھلا دیتے ہیں۔ کیا اس بار کچھ مختلف ہوگا؟

دنیا کی آنکھوں میں یہ تصویر بہت دلکش ہے۔ ایک طرف امریکا اور یورپ کا دباؤ ہے جو روس کو یوکرین کی جنگ کے بعد تنہا دیکھنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف چین ہے جس کی معیشت دنیا کو ہلا رہی ہے اور جو نئے راستے تلاش کر رہا ہے۔

تیسری طرف بھارت ہے جو مغرب سے ہاتھ بھی ملاتا ہے اور ایشیا میں اپنی بالا دستی بھی چاہتا ہے۔ ان تینوں کی یہ نشست اگر واقعی خطے کا رخ موڑتی ہے تو یہ تاریخ کا بڑا موڑ ہوگا۔ 

لیکن مجھے فکر اس بات کی ہے کہ اس میز پر کسان کہاں ہے؟ مزدور کہاں ہے؟ وہ عورت کہاں ہے جس کے ہاتھ روز محنت سے لہولہان ہوتے ہیں؟ وہ نوجوان کہاں ہے جو روزگار کے دروازے پر بار بار دستک دیتا ہے اور ہر بار خالی ہاتھ لوٹ آتا ہے؟

پاکستان کی کہانی اور بھی پیچیدہ ہے۔ ہم برسوں سے یہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ سی پیک ہماری تقدیر بدل دے گا۔ گوادر کی بندرگاہ کو ہم نے خطے کی خوشحالی کی کنجی قرار دیا۔

کبھی روس کے ساتھ گیس پائپ لائن کا تصور ہمیں لبھاتا ہے کبھی وسطی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی کا خواب ہماری آنکھوں کو چمکاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری گلیوں اور بازاروں میں غربت کا سایہ دن بدن گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں تھامے دربدر ہیں مزدور کی اجرت زندگی کی قیمتوں کے سامنے بوجھل ہے اور کسان اپنی محنت کا پھل بھی قرض کے بوجھ تلے دبا کر کھو دیتا ہے۔ اگر یہ بلاک صرف ریاستوں کا ہوگا عوام کا نہیں تو پاکستان کے عام آدمی کے لیے یہ کوئی نئی صبح نہیں بلکہ پرانی شام ہی ہوگی۔

مجھے تاریخ کے کچھ اور لمحے یاد آتے ہیں۔ نان الائنڈ موومنٹ کا وہ زمانہ جب نہرو،ٹیٹو اور ناصر نے یہ خواب دیکھا تھا کہ ترقی پذیر ممالک سامراجی طاقتوں کے خلاف ایک نیا محاذ بنائیں گے۔

ہمیں لگا کہ اب دنیا دو قطبی تقسیم سے نکل کر ایک نئے انصاف پر مبنی نظام کی طرف بڑھے گی لیکن وہ خواب وقت کے دھندلکوں میں کھو گیا۔ آج پھر ہم ایک نئے خواب کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔ سوال وہی ہے کیا یہ اتحاد عوام کو عزت اور روٹی دے گا یا صرف سرمایہ داروں کو نئے سودے؟

روس اور چین کی سوشلسٹ روایتیں میرے دل کو اب بھی چھوتی ہیں۔ میں نے اپنے جوانی کے دنوں میں ماسکو اور بیجنگ کے انقلابات کے بارے میں پڑھا تھا اور سوچا تھا کہ دنیا واقعی بدل سکتی ہے لیکن اب ان ملکوں نے اپنے راستے بدل لیے ہیں۔

سرمایہ داری کا رنگ ان کے چہروں پر بھی چھا چکا ہے۔ چین کی شاہراہیں اور بلند و بالا عمارتیں دنیا کو مسحور کرتی ہیں لیکن وہاں بھی مزدورکی محنت سستی ہے اور کارخانوں میں عورتیں لمبے اوقات کار کے باوجود کم اجرت پر زندگیاں گزار رہی ہیں۔

روس جس نے ایک زمانے میں انقلاب کی صدا دنیا کو سنائی تھی آج اپنے توانائی کے ذخائر اور ہتھیاروں کے سودے پر فخر کرتا ہے۔ بھارت اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے لیکن اس کے اندر اقلیتوں پر جو ظلم روا ہے وہ کسی سے چھپا نہیں۔ ریاست گجرات کے داغ آج بھی اس کے دامن پر ثبت ہیں ایسے میں کیا ہم یہ مان لیں کہ یہ بلاک واقعی ایک نیا وعدہ ہے؟ میرا دل اس سوال کے سامنے تذبذب میں ہے۔

پاکستان کی معیشت آئی ایم ایف کے شکنجے میں ہے ہر نیا قرض ہماری آنے والی نسلوں پر بوجھ بنا کر رکھ دیا جاتا ہے۔ نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لیے روزگار کے لیے دربدر پھر رہے ہیں۔ عورتیں گھروں اور کھیتوں میں دن رات محنت کرتی ہیں مگر ان کا نام کسی معاہدے یا منصوبے میں نہیں آتا۔

ہمارے محنت کش دنیا بھر میں مشقت کرتے ہیں مگر ان کی محنت کا پھل ان کے گھر نہیں بلکہ بینکوں اور کمپنیوں کے کھاتوں میں جمع ہوتا ہے۔ ایسے میں مجھے یہ سوچ کر دکھ ہوتا ہے کہ اگر یہ نیا بلاک ان کے لیے کوئی روشنی نہیں لاتا تو پھر یہ اتحاد محض حکمرانوں کا ہے عوام کا نہیں۔

تاریخ ہمیں امید بھی دیتی ہے اور مایوسی بھی۔ ہم نے انقلاب روس کو دیکھا چین کے کسانوں کی فتح دیکھی، ویتنام کے گوریلوں کا حوصلہ دیکھا، ایران کی عورتوں کی جدوجہد دیکھی لیکن ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جب حکمران اپنی کرسیوں کے اسیر ہو جاتے ہیں تو عوامی خواب کیسے بکھر جاتے ہیں ان خوابوں کے ٹوٹنے کی صدا آج بھی ہمارے کانوں میں گونجتی ہے۔

مجھے یاد ہے کہ جب برصغیر تقسیم ہوا تھا تو ہمارے بزرگوں نے یہ کہا تھا کہ ’’ اب ہم آزاد ہیں، اب ہم اپنے فیصلے خود کریں گے‘‘ لیکن آزادی کے ان برسوں میں ہمارے فیصلے اکثر کہیں اور بیٹھے ہوئے لوگ کرتے رہے ہیں کبھی واشنگٹن کبھی بیجنگ کبھی ریاض۔

آج اگر یہ نیا ایشیائی بلاک بنتا ہے تو کیا واقعی ہمارے فیصلے ہمارے ہاتھ میں ہوں گے؟ یا ہم پھر کسی نئے مرکز کے تابع ہو جائیں گے؟ میری خواہش یہ ہے کہ اگر واقعی یہ ایشیائی بلاک بنتا ہے تو یہ محض شاہراہوں اور بندرگاہوں کا اتحاد نہ ہو۔

یہ کسانوں کے کھیتوں، مزدوروں کے کارخانوں، عورتوں کی محنت اور نوجوانوں کی امنگوں کا اتحاد ہو ورنہ یہ ایشیا کی صدی نہیں بلکہ سرمایہ داروں کی صدی ہوگی۔ تاریخ نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ قومیں صرف سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں بنتیں وہ انسانوں کے خوابوں اور ان کی خوشیوں سے بنتی ہیں۔ مجھے فیض صاحب کا یہ شعر بہت یاد آیا:

یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں

یہ سحر تبھی ہوگی جب یہ بلاک عوام کا بلاک ہوگا، محنت کشوں کا بلاک ہوگا، ورنہ طاقت کے یہ کھیل ہمیں پھر اندھیروں کی طرف دھکیل دیں گے اور میں پھر وہی سوال دہراتی رہوں گی، ایشیا کے خواب کب عوام کے خواب بنیں گے؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایک نیا کہاں ہے کے لیے ہے اور

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان