بارات سیلاب میں گھِر گئی، دلہا اور باراتیوں کی ڈرامائی ریسکیو
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
دریائے ستلج میں طغیانی کے باعث بورےوالا کے نواحی علاقے ساہوکا کے قریب ایک انوکھا واقعہ پیش آیا جب دلہا اور اس کے باراتی سیلابی پانی میں پھنس گئے۔
دلہا اپنی بارات عارفوالا لے کر جا رہا تھا کہ اچانک پانی کے ریلے نے ان کا راستہ روک لیا۔
یہ بھی پڑھیں:جنوبی پنجاب میں سیلاب متاثرین کے لیے ایئر لفٹ ڈرونز سے ریسکیو و ریلیف آپریشن جاری
ریسکیو ذرائع کے مطابق، باراتیوں نے فوری طور پر ریسکیو اہلکاروں سے مدد طلب کی، جس پر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور باراتیوں سمیت دلہے کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ خوش قسمتی سے واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
مقامی افراد کے مطابق، سیلابی ریلوں نے علاقے کی بستیوں کا زمینی رابطہ منقطع کر رکھا ہے جس کے باعث نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی ہے۔
ریسکیو اہلکار مسلسل کشتیاں اور دیگر ذرائع استعمال کر کے متاثرہ لوگوں کو نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی بلوں کی وصولی سے روک دیا
یاد رہے کہ دریائے ستلج اور اس کے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ کئی روز سے سیلابی صورتحال جاری ہے۔
دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے درجنوں دیہات متاثر ہوئے ہیں، فصلیں تباہ اور ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
سرکاری اور نجی اداروں کی جانب سے خیمہ بستیاں قائم کر کے متاثرین کو خوراک اور امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے چند روز میں دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے باعث پنجاب کے نشیبی علاقوں میں مزید مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بارات بورے والا دریائے ستلج ریسکیو سیلاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بارات بورے والا دریائے ستلج ریسکیو سیلاب
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔