کرس گیل کو بھی پاک بھارت میچ کا شدت سے انتظار
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
ویسٹ انڈیز کے جارح مزاج اوپننگ بلے باز کرس گیل کو بھی پاک بھارت میچ کا شدت سے انتظار ہے۔
یونیورس باس کے نام سے مشہور کرس گیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ آج پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ ہے جو ہمیشہ شائقین کو جوش دلاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ٹیموں کے سپر اسٹارز اب ٹیم میں موجود نہیں ہیں، یہ دونوں حریف ٹیموں کا ایک نیا دور ہے۔
کرس گیل کا کہنا تھا کہ ماحول بہت اچھا ہوگا اور کھیل سنسنی خیز ہونے کی امید ہے۔
https://x.
پاکستان ٹیم ممکنہ طور پر عمان کے خلاف فتح حاصل کرنے والی پلیئنگ الیون کے ساتھ ہی میدان میں اترے گی۔
حارث رؤف کی ٹیم میں شمولیت کے بارے میں حتمی فیصلہ پچ دیکھ کر کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کرس گیل
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :