پاک بھارت ٹاکرا، قومی ویمنز ٹیم کا مینز ٹیم کیلیے نیک خواہشات کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
ایشیا کپ 2025 کا سب سے بڑا پاک بھارت ٹاکرا آج ہوگا۔
جنوبی افریقہ ویمنز کے خلاف سیریز کی تیاریوں میں مصروف قومی ویمنز ٹیم نے مینز ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کردیا۔
ویمنز کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ محمد وسیم نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کا بڑا میچ ہے جس کا ہمیں بھی انتظار ہے۔ پاکستان ٹیم کے لیے نیک تمنائیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سہ فریقی سیریز میں اچھی کرکٹ کھیلی ہے۔ پوری امیدیں ہیں کہ پاکستان بھارت کے خلاف بھی اچھا کھیلے گا۔
عالیہ ریاض نے ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہات کرتے ہوئے کہا کہ اچھا کھیلیں اور ملک کا نام روشن کریں۔
ایمان فاطمہ اور نتالیہ پرویز نے کہا کہ ہماری نیک خواہشات اور دعائیں پاکستان ٹیم کے ساتھ ہیں۔
https://x.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹیم کے
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔