آج پاکستان کی عسکری طاقت کو تو دنیا مان رہی ہے: اسد عمر
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
سابق وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ بڑی چیز ہے۔ آج پاکستان کی عسکری طاقت کو تو دنیا مان رہی ہے۔
لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان پر خطرات تو ہمیشہ سے رہے مگر اب مزید بڑھ گئے ہیں، بھارت اور اسرائیل مل کر خطے کے اندر دھمکیاں دے رہے ہیں۔
اسد عمر کا کہنا ہے کہ آج ہمارے ملک کے اندر سیاسی استحکام کی بہت ضرورت ہے، موجودہ حکمران مینڈیٹ نہ رکھتے ہوئے بھی حکومت میں بیٹھے ہیں۔
نیویارک سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان نیٹو جیسا.
انہوں نے کہا کہ کیا سیلاب کے دوران آپ کو حکمرانوں کا کوئی کردار نظر آ رہا ہے، کسان تباہ ہو چکا، سیلاب کسانوں کا سب کچھ بہا کر لے گیا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے ساتھ بات کیے بغیر استحکام نہیں آسکتا، بانی پی ٹی آئی کے ساتھ بیٹھے بغیر سیاسی بحران کا حل نہیں نکل سکتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔