میئر لندن صادق خان کو میں ایک عرصہ سے پسند نہیں کرتا، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میرے کہنے پر صادق خان کو شاہی ضیافت میں مدعو نہیں کیا گیا، صادق خان شاید آنا چاہتے تھے، لیکن میں انہیں وہاں نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ میئر لندن صادق خان کو ایک عرصہ سے پسند نہیں کرتا۔ صدر ٹرمپ نے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے کہنے پر صادق خان کو شاہی ضیافت میں مدعو نہیں کیا گیا، صادق خان شاید آنا چاہتے تھے، لیکن میں انہیں وہاں نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں میئر لندن صادق خان کا شمار دنیا کے بدترین میئرز میں ہوتا ہے، ہمارے پاس بھی کچھ بُرے میئرز ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لندن میں جرائم کی شرح انتہائی بلند ہے، صادق خان امیگریشن کیلئے بھی آفت ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صادق خان کو
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔